کلامِ میرردیف و
خط لکھ کے کوئی سادہ نہ اس کو ملول ہو
۱
خط لکھ کے کوئی سادہ نہ اس کو ملول ہوہم تو ہوں بد گمان جو قاصد رسول ہو
۲
چاہوں تو بھر کے کولی اٹھا لوں ابھی تمہیںکیسے ہی بھاری ہو مرے آگے تو پھول ہو
۳
سرمہ جو نور بخشے ہے آنکھوں کو خلق کیشاید کہ راہ یار کی ہی خاک دھول ہو
۴
جاویں نثار ہونے کو ہم کس بساط پراک نیم جاں رکھیں ہیں سو وہ جب قبول ہو
۵
ہم ان دنوں میں لگ نہیں پڑتے ہیں صبح و شامورنہ دعا کریں تو جو چاہیں حصول ہو
۶
دل لے کے لونڈے دلی کے کب کا پچا گئےاب ان سے کھائی پی ہوئی شے کیا وصول ہو
۷
ناکام اس لیے ہو کہ چاہو ہو سب کچھ آجتم بھی تو میرؔ صاحب و قبلہ عجول ہو
۲۱۷ / ۵۸۲