کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ

۱

اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہکیا پوچھتے ہو الحمدللہ

۲

مر جاؤ کوئی پروا نہیں ہےکتنا ہے مغرور اللہ اللہ

۳

پیر مغاں سے بے اعتقادیاستغفر اللہ استغفر اللہ

۴

کہتے ہیں اس کے تو منہ لگے گاہو یوں ہی یا رب جوں ہے یہ افواہ

۵

حضرت سے اس کی جانا کہاں ہےاب مر رہے گا یاں بندہ درگاہ

۶

سب عقل کھوئے ہے راہ محبتہو خضر دل میں کیسا ہی گمراہ

۷

مجرم ہوئے ہم دل دے کے ورنہکس کو کسو سے ہوتی نہیں چاہ

۸

کیا کیا نہ ریجھیں تم نے پچائیںاچھا رجھایا اے مہرباں آہ

۹

گزرے ہے دیکھیں کیوں کر ہماریاس بے وفا سے نے رسم نے راہ

۱۰

تھی خواہش دل رکھنا حمائلگردن میں اس کی ہر گاہ و بیگاہ

۱۱

اس پر کہ تھا وہ شہ رگ سے اقربہرگز نہ پہنچا یہ دست کوتاہ

۱۲

ہے ماسوا کیا جو میرؔ کہیےآگاہ سارے اس سے ہیں آگاہ

۱۳

جلوے ہیں اس کے شانیں ہیں اس کیکیا روز کیا خور کیا رات کیا ماہ

۱۴

ظاہر کہ باطن اول کہ آخراللہ اللہ اللہ اللہ

۴۶۳ / ۵۸۲