کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
الوداع اے افتخار نوع انساں الوداع
الوداع اے افتخار نوع انساں الوداعبادشاہ کم سپاہ اہل ایماں الوداع
اے تمناے دل زہراے بیکس ہے دریغوے ستم کشتہ علی کے خواہش جاں الوداع
ہوگئے پانی جگر حسرت سے جب تونے کہاخشک لب اہل حرم سے ہو کے گریاں الوداع
مر گیا محروم سب چیزوں سے تس پر بھی گئےساتھ تیری جان کے صدگونہ حرماں الوداع
یوں چمن کر کن نے دکھلایا ہے آگے معرکہسرخ تھی سب تیرے خوں سے خاک میداں الوداع
اے برنگ خاک یکسر داغ تجھ پر صد صلوٰۃوے بسان گیسواں خاطرپریشاں الوداع
مرگ اصغر میں ہوا ہنگامہ برپا حشر کاتونے رو کر جو کہا اے طفل ناداں الوداع
کھانے پینے کی رہی کیا قید تجھ پر ہے ستماے عزیز اس مجلس دوناں کے مہماں الوداع
ہائے رخصت تیری یوں کیونکر ہوئی ہے اتفاقدشت تو بے آب سب یہ سر پہ طوفاں الوداع
خوبی تیرے دم سے تھی اے خانہ ساز دیں درودگھر تو پھر سب ہوگیا اک دم میں ویراں الوداع
مر گئے بیٹے بھتیجے سب ترے تصویر سےہوگیا تو حال میں اپنے ہی حیراں الوداع
نقل کیا اب بے سر و سامانی تیری کیجیےاے نہ تن پر سر نہ سر کو تیرے ساماں الوداع
عورتیں بیکس گئیں سو لب پر ان کے ہائے واےکہہ گئے آگے ہی سب انصار و اعواں الوداع
پاس پیکر کے کھڑی کلثوم لب پر الفراقساتھ سر کے کہتی زینب خاک افشاں الوداع
خاک میں بھی دفن ہونا تیری قسمت میں نہ تھااے تمام اندوہ کم انبوہ سلطاں الوداع
تو مسافر ہوگیا دوگام چل کر اے حسینشہربانو گئی بیاباں در بیاباں الوداع
ایک بیٹا بیکس و بیمار سو کیا کیا کرےزاری و فریاد و آہ و شور و افغاں الوداع
مرثیہ تو میرؔ تو کہتا ہی تھا پر اب کے یہکیا کہی ہے ہائے اے نمناک مژگاں الوداع
۴۶۴ / ۵۸۲