کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

امت تھی نبیؐ کی کہ یہ کفار حسینا

۱

امت تھی نبیؐ کی کہ یہ کفار حسیناتو سبط تھا اس کا کہ گنہگار حسینابے ہیچ لیا جی سے تجھے مار حسینایہ دیں ہے تو ہم پہنیں گے زنار حسینا

۲

یوں اہل حرم کہتے ہیں وارث نہیں سر پرجو تیرے تلف ہوگئے آباد رہے گھررکھتے تھے توقع کہ جواں سال ہے اکبرسو کھا گئی اس کو بھی وہ تلوار حسینا

۳

اصغر نہ ہوا تھا ابھی امید کی جاگہتھا طفل نہ تھا نیک و بد دہر سے آگہسو اس کو بھی اک تیر لگا آن کے ناگہسجاد جو باقی ہے سو بیمار حسینا

۴

قاسم پہ کبھی اپنی نظر پڑتی تھی جاکرکہتے تھے اسے سونپے گا شہ ہم کو بلاکرسو آگے ہی تجھ سے وہ گیا سر کو کٹاکرکیا روئیے کوئی نہیں غم خوار حسینا

۵

ہر چند کہ یاں سے وہ بہت دور مکاں تھاپر ترک وطن کرتے ہی ہنگامہ عیاں تھاتو آن اترتا تھا جہاں اور سماں تھابے ڈھب تھی تبھی چرخ کی رفتار حسینا

۶

گریاں در و دیوار تھے ہنگام سفر کےہم چشم تھے پاؤں کے اثر دیدۂ تر کےدامن میں ترے دست زناں لوگ تھے گھر کےکچھ خوب نہ تھے پہلے ہی آثار حسینا

۷

یاں تو تھا اگرچند بہت مردم کم سےپر بادیہ آباد ہوا تیرے قدم سےاب تو ہے جہاں واں تئیں بے فاصلہ ہم سےسرہاے بریدہ کا ہے بازار حسینا

۸

کیا خویش و برادر ترے کیا یاور و انصارآگے ہی ترے کر گئے سب رخت سفر بارگھر لوٹ لیا سارا نہ آدم ہے نہ یک تارہو کون سیہ پوش و عزادار حسینا

۹

وارث جو کوئی ہو تو لگے اس کے جگر کوجلنا نہ سکے دیکھ وہ اس طرح سے گھر کویوں خوش نہ کرے لوگوں کی عریانی سر کوسو غیرخدا کون ہے ستار حسینا

۱۰

میدان کی سب خاک کو ہم چھان کے دیکھاتب لاشہ ترا دیر میں پہچان کے دیکھاسو جسم کو بے سر ترے اب آن کے دیکھاجی ہی میں رہی خواہش دیدار حسینا

۱۱

یوں خاک ملے خوں میں ترا سامنے سوناپھر طاقت رفتار کا پاؤں میں نہ ہوناکہیے بھی جو بیٹے کے تئیں ایک ہو روناہیں اس کو تو آزار پر آزار حسینا

۱۲

مرنا ہو میسر تو کریں ہم تگ و دو بھیہوں اپنوں کی باتیں تو سنی جاتی ہیں سو بھیپتھر بھی کیا دل کے تئیں ہم نے پہ تو بھیاٹھتی نہیں یہ سختی گفتار حسینا

۱۳

کیا قہر ہے ہر پیر و جواں خستہ پڑا ہوبیٹا جو رہا ہو سو بندھے ہاتھ کھڑا ہوتو قتل ہوئے پر بھی زمیں میں نہ گڑا ہوہم ایسے ستم کے ہوں سزاوار حسینا

۱۴

آنکھوں کے مندے تیرے ستم سخت ہوا ہےسر ننگے ہیں سب کون سا پردہ وہ رہا ہےناموس نبیؐ قید ہو لوگوں میں کھڑا ہےدے کھینچ کوئی بیچ میں دیوار حسینا

۱۵

لیتے ہیں ترا نام جو سب شور و بکا کرپوچھے ہے سکینہ تجھے ہر ایک سے آکردلجوئی کرے کون اسے پاس بلاکرہم ایک مصیبت میں گرفتار حسینا

۱۶

کیوں بیٹے بھتیجے سبھی یوں جاویں نہ مارےکس طور تلف ہوویں طرفدار نہ سارےتوسرپہ سلامت رہے کیونکرکے ہمارےہونا تو ہمیں دشت میں تھا خوار حسینا

۱۷

یہ جور کسو مذہب و ملت میں نہ دیکھایہ طور جو دیکھا کسو صحبت میں نہ دیکھایہ حال کسو کی بھی ہزیمت میں نہ دیکھامارے بھی پڑا کرتے ہیں سردار حسینا

۱۸

کس واسطے سب روے زمیں لال ہوا ہےکاہے کو ترے باغ کا یہ حال ہوا ہےکیوں خون ترا خاک سا پامال ہوا ہےتھا تو تو سبھوں کا گل دستار حسینا

۱۹

کیا حال کہے یاں کے کوئی جور و جفا کاخوں بسکہ گرا خاک کے اوپر شہدا کااٹھ سیر تو کر تو بھی تنک رنگ ہوا کاہر خار و خس دشت ہے گلزار حسینا

۲۰

رنج ایک جو ہووے تو ہر اک اس کو اٹھا لےجی کوئی سنبھالے کہ سکینہ کو سنبھالےتو کاشکے اب سب کے تئیں پاس بلا لےاس جینے سے ہم آئے ہیں بیزار حسینا

۲۱

جوں ہم لٹے دشمن کو بھی حق یوں ہی لٹاوےپردے کے تئیں اس کے بھی یک بار اٹھاوےکاہے سے کوئی منھ کے تئیں آہ چھپاوےچھوٹا نہیں ہے گھر میں تو اک تار حسینا

۲۲

نقصان ہوا تیرے تئیں جان کا عائدکچھ سمجھے نہ اس قوم سیہ رو کے عقائدپھر کاٹے لیے جاتے ہیں سر کو جو یہ شایدہے تجھ سے ابھی ان کو سروکار حسینا

۲۳

کیا کہیے ترے مر گئے عزت ہے نہ آدرسر پر نہ رہا معجر و چھوٹی نہیں چادرنے یار نہ داور نہ کوئی خویش و برادرکس سے کریں ہم درد دل اظہار حسینا

۲۴

میداں میں عزیزوں کے لہو دیکھے ہیں جاریکس طرح سے موقوف کریں نالہ و زاریکرتے ہیں بہت ضبط پہ جوں ابر بہاریتھمتے نہیں یہ دیدۂ خوں بار حسینا

۲۵

کہتے تھے ادھر کو نہ کسی طرح پڑے راہسو آئے چلے سیدھے یہیں خواہش اللہتقدیر کا سمجھا نہ گیا ہم سے فریب آہکچھ ہووے ہی گا اس میں بھی اسرار حسینا

۲۶

یہ آتش غم کس سے کہیں جا کہ بجھادےشعلے سے جو اٹھتے ہیں جگر میں سے بٹھادےیوں جلتے رہیں کب تئیں ہم سب کو جلادےکاش آکے کوئی ابر شرربار حسینا

۲۷

انواع ستم ہم نے ترے پیچھے سہا ہےکچھ تو بھی تو کہہ کاہے کو منھ موند رہا ہےبے رحم کسی شخص نے کیا تجھ سے کہا ہےمت بولیو ان لوگوں سے زنہار حسینا

۲۸

اس بگڑے ہوئے حال کا مشکل ہے سنورناکیا نقل کریں خوب ہے اس جینے سے مرناجن لوگوں سے تھا ننگ ہمیں بات کا کرنااب ان کو سخن ہم سے ہوا عار حسینا

۲۹

سب حال کہیں تنگی وقت آہ جو رہ دےتجھ پاس رہیں فرصت اگر روز سیہ دےاب تو ہی کچھ اس باب میں سجاد سے کہہ دےہم شام کے جانے کو ہیں تیار حسینا

۳۰

بے طاقتی و ضعف بدن گرچہ عیاں ہےناچار ولے ساتھ ہمارے وہ رواں ہےانصاف سے ٹک دیکھے سو وہ چشم کہاں ہےعابد کے کف پا و سر خار حسینا

۳۱

ہوتا نہیں اب منھ پہ یہاں خاک ملے کچھتسکیں ہو دلوں کو جو زباں تیری ہلے کچھسرکیں نہ قدم گاہ سے اپنا جو چلے کچھجاتے ہیں تجھے چھوڑ کے ناچار حسینا

۳۲

ماتم بھی ترا کریے جو فرصت دے زمانہعزت سے ترا خاک سے بن آوے اٹھاناسو ہم نے تو دل کھول کے رونا بھی نہ جاناوقفہ نہیں دیتے یہ ستمگار حسینا

۳۳

یہ حرف تھے جو شور ہوا چلنے کا ناگاہپھر میرؔ وہ قیدی بھی گئے واں سے بھر اک آہہر غم زدہ کے لب پہ چلے جاتے ہوئے راہآتا تھا ہر اک گام کئی بار حسینا

۴۶۶ / ۵۸۲