کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
آیا محرم غمگیں رہا کر
آیا محرم غمگیں رہا کرابن علی کا ماتم رکھا کرشیون جہاں ہو رو روز جاکرآخر نبیؐ کے منھ سے حیا کر
صرف خزاں ہے باغ امامتاچھی نہیں کچھ یاں کی علامتہر گل کے سر پر ہے اک قیامتپیراہن اپنا تو بھی قبا کر
کھنچ جا علی کی اولاد کی اورنزدیک سب کے ہے یہ طرف زورسن کربلا کا ہنگامہ و شورغم سے کماں ساں ہر دم نوا کر
مٹی میں بوٹے اٹنے لگے ہیںاشجار سارے کٹنے لگے ہیںگل پھول جو ہیں چھٹنے لگے ہیںجوں ابر تو بھی رو دل لگا کر
شبیر و احمد نانا نواساجس کی نہ خاطر نے کچھ دلاساہفتم سے رکھا اس کو پیاساآخر موا وہ گردن کٹا کر
بابا نہ تھا جو چھاتی لگاتابھائی نہ تھا جو ہمت بندھاتابیٹا نہ تھا جو لاشیں اٹھاتامرنا بنا سو بیکس ہو آکر
پتھر جگر تھا اس شیشہ جاں کادیکھا اجڑنا ووں خانماں کامرنا اٹھایا بیٹے جواں کاکیا کیا گیا آہ سختی اٹھا کر
نانا کی امت برگشتہ ساریرکھتا تو کس سے امیدواریعابد رہا ہے تس کو نزاریگھر سونپ جاتا کس کو بلا کر
القصہ آنکھیں اس کی مندیں جبخیموں میں محشر برپا ہوئی تبفریاد و افغاں کرنے لگے سبمویہ کناں تھے مو سر کے وا کر
اس حال میں آ خیمہ جلایااسباب ظاہر لوٹا لٹایااس گھر کا ماتم یوں کر اٹھایایک جا کیے سب میداں میں لاکر
وہ ناتوانی زین العبا کیوہ دھوم گھر پر جور و جفا کیبے صرفہ اشیا کیا کیا لٹا کیتس پر ستم یہ اس کو دکھا کر
وے دست کجیاں وہ کج پلاسیاہل حرم کی وہ بے لباسیپھر ظالموں کی ناحق شناسیسینے جلائے باتیں سنا کر
سمجھے نہ کچھ ہم اے چرخ جاہلویسے گلے کو شمشیر قاتلبھائی کو اس کے زہر ہلاہلبیٹے کو لایا یوں تو بندھا کر
ناموس اس کے بے سیرتوں میںدولت سرا وہ بے دولتوں میںوے اہل غیرت بے غیرتوں میںکیسا رہا تو آنکھیں چھپا کر
اکبر جواں کو ہاتھوں سے کھویااصغر پیاسا گودی میں سویاآنکھیں نہ اس دم تیری تھیں گویاجس دم گیا وہ خوں میں نہا کر
نو نیزہ پانی گو چڑھ رہا تھالشکر تو اس کا پیاسا موا تھاانصاف ظالم یہ آہ کیا تھانیزہ چڑھایا سر پھر جدا کر
خاک سیہ سے ہو یوں برابروہ شہ جو سب سے رتبے میں برترطالع جو اس کے کسریٰ و قیصرخادم سکے ہو یا ہووے چاکر
عابد کو آزار اور ناتوانیپھر اس کو مطلق دانہ نہ پانینے کوئی غم خوار نے یار جانیکس سے کہے ٹک میری دوا کر
بھائی کو دیکھے رو رو سکینہجن کی نظر سے جل جائے سینہپھر ڈر سے ان کے جن کو تھا کینہرہ جائیں آنکھیں دونوں ملا کر
قاسم کی شادی ویسے رچائیلوہو سے مہندی بھر کر لگائیجوں شمع دلہن روتی بنائیآخر موا وہ چھاتی جلا کر
جو پردگی تھے بے پردہ آئےخرگاہ خیمے سارے جلائےبیٹے بھتیجے سب وو کٹائےکیا کیا گیا وہ آزار پا کر
دیکھا ترا ڈھب سب سے نرالاروکش علی کا کس کو نکالاکرلے حکومت اس کا حوالہلیجے ریاست اس سے چھنا کر
گھر کی علی کے ویسی خرابیاہل ستم کی وہ کامیابیکر فکر غافل اپنی شتابیکس کو بگاڑا کس کو بنا کر
مدت تلک کی ہرزہ درائیشہرت ہوئی پر ذلت اٹھائیبس میرؔ کب تک پیری بھی آئیاب مرثیہ ہی اکثر کہا کر
۴۶۵ / ۵۸۲