کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

آئی ہے شب قتل حسین ابن علی کی

۱

آئی ہے شب قتل حسین ابن علی کیرخصت ہے سحر عترت والاے نبی کیکٹ جائے گی سب آل رسول عربی کیبرہم ہی ہوئی جان لو صحبت یہ کبھی کی

۲

جب اس شہ مظلوم سے تلوار چلے گیگرد اٹھ کے سوے چرخ ستمگار چلے گیپاؤں کے تلے سے زمیں یک بار چلے گیاٹھ جائے گی تہ انس و ملک جن و پری کی

۳

لیکن جو مقدر ہے شہ دین کا ہوناآزار دلی کھینچنا اس جان کو کھونااحباب جو ہیں ان کو قیامت تئیں روناکس طرح ظفر ہووے نہ اس قوم دنی کی

۴

بے ڈول نظر آتی ہیں اعدا کی نگاہیںہے جاے تعجب جو مروت کو نباہیںغالب ہے کہ یہ خوبی شبیر نہ چاہیںسن لیجو کہ ان لوگوں نے سادات کشی کی

۵

ہووے گا نمودار سحر کا جو ستارہہوگا تبھی سے شام کے لوگوں کا گذارامیداں میں نکل صاف یہ شہ جائے گا ماراساتھ اس کے اجل آئے گی یک بار سبھی کی

۶

ہرگز نہ ملے گا کسو کو ایک دم آبکیا خرد و کلاں پیاس سے ہوجائیں گے بے تابتڑپیں گے پڑے خاک میں کیا کیا گہر نابدریا پہ یہ آفت پڑے گی تشنہ لبی کی

۷

اکبر کے تڑپنے کے تئیں دیکھے گا مظلوممرنا کرے گا گود میں اصغر کا بھی معلومسن لیوے گا قاسم کی ہلاکی کی پڑی دھوملے جائے گا سب مرتے ہوئے جی ہی میں جی کی

۸

گذرے گی جو کچھ سر کے اپر سب وہ سہے گابیٹوں میں بھتیجوں میں کوئی کم ہی رہے گاجو وارثی کر باپ کی اک بات کہے گااوقات نے دیکھوگے بہت اس سے کمی کی

۹

برپا کریں گے حشر عجب خیموں میں جاکرلے جائیں گے پھر سر کے تئیں نیزہ چڑھا کرلاویں گے بلا اک حرم شاہ میں آکردلجوئی نہ عابد کی تسلی نہ کسی کی

۱۰

چھینیں گے ردائیں سر سکان حرم سےکچھ کہہ نہ سکے گا کوئی واں فرط الم سےدرگوش سکینہ کا اتاریں گے ستم سےدلداری کرے گا نہ کوئی باپ موئی کی

۱۱

محجوب نہ ہوگا کوئی شبیر کے رو سےہوگا وہ پڑا خاک میں آلودہ لہو سےکیا زین عبا آنکھ ملاوے گا کسو سےکچھ چشم کسو سے نہ جسے دادرسی کی

۱۲

جس جا کہ پڑا خاک میں ہوگا وہ تن پاکہووے گی کھڑی مویہ کناں زینب غمناککلثوم اڑاوے گی کھڑی ہوکے بہت خاکپرسش نہ کرے گا کوئی اس خاک ملی کی

۱۳

اصغر کے لیے بانو المناک پھرے گیآنکھوں سے لہو روتی جگرچاک پھرے گیفریادکناں منھ پہ ملے خاک پھرے گیسننے کے نہیں بات کو اس جان جلی کی

۱۴

پاس احمد مختار کا کرنے کے نہیں کچھرو حیدر کرار کا کرنے کے نہیں کچھغم عابد بیمار کا کرنے کے نہیں کچھکیا دیکھیو اس قوم نے دنیاطلبی کی

۱۵

بے صرفہ چلے آویں گے غارت کے بہانےلے جائیں گے لوگوں کے تئیں پاؤں چلانےدیکھوگے کہ اس جمع سراپاے جفا نےوارث کے موئے پر بھی جفا میں نہ کمی کی

۱۶

خوش ہوویں گے دیکھیں گے اسیروں کو جو مغمومدم لینے نہ دیویں گے جو ہو ماتم مظلومانصاف کروگے تو تمھیں ہووے گا معلومان بدگہروں نے کوئی بھی بات بھلی کی

۱۷

القصہ وے سب شام کی جانب کو چلیں گےدل اور جگر آتش کربت سے جلیں گےکم فرصتی وقت سے ٹک دم بھی نہ لیں گےسن لیجو کہ عابد نے بلا رنج کشی کی

۱۸

یک چند جدا جا کے وہ رنجور رہے گابے گور و کفن یہ تن پرنور رہے گاہر جاے بہم میرؔ یہ مذکور رہے گاکیا سمجھے تھے وے لوگ جو یہ بے ادبی کی

۴۶۸ / ۵۸۲