کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

ابن علی سے سنا ہے یار و دشت بلا میں لڑائی ہوئی

۱

ابن علی سے سنا ہے یار و دشت بلا میں لڑائی ہوئیایدھر تھے ہفتاد و دو تن یہ اودھر ساری خدائی ہوئیصاف نکل کر جیسے گیا یہ گھر کی ساری صفائی ہوئیچارہ کیا ہے خواہش حق سے کب رہتی ہے آئی ہوئی

۲

تھی وہ ختم رسلؐ کی امت یہ بھی اس کا نواسا تھاچشم وفاداری رکھتا تھا ایک جگہ کا باسا تھاسو وے سب دریا پر اترے ایک یہی واں پیاسا تھادیکھو ان اندھے لوگوں سے کیسی دیدہ درائی ہوئی

۳

ہائے کنھوں نے یہ بھی نہ پوچھا کیا ہے گنا ان لوگوں کاثابت کچھ تو کیا چاہے ہے حال برا ان لوگوں کاقتل ہوا پھر کس خاطر سردار بھلا ان لوگوں کایہ جو مسافر آ اترے تھے کاہے کو ان پہ چڑھائی ہوئی

۴

آنکھ ملا کر کہہ تو فلک پر کیسی نظر تھی تاروں کیجانیں کھپیاں گردنیں کٹیاں بھوکے پیاسے بچاروں کیسرور دیں یوں خاک میں لوٹیں عزت ہو یوں خواروں کیچتر گرایا کس کا ظالم کس کے ہائے دہائی ہوئی

۵

کہیے طول جو حد رکھے کچھ ظلم و ستم کے ہاتھوں کاکیسا ٹھہرا سبط نبی پر قدغن تھا سب باتوں کادن کا کھانا ترک ہوا تھا منع تھا سونا راتوں کاپانی سید پینے نہ پاویں چاروں اور منائی ہوئی

۶

کیا داور محشر کو کہے گا سر رفتہ کر گوش اس کاحیدر صفدر باپ ستم کش نانا احمدؐ تھا جس کاظلم سے اس کو کیوں مارا یہ مجرم ایسا تھا کس کاقہر ہے جو دکھلاوے گا پیشانی پہ برچھی کھائی ہوئی

۷

کھانا پینا ترک کیے پر اس کو یہ غم کھانے پڑےبیٹے بھتیجے بھائی سب کے سر ناچار کٹانے پڑےہائے رے اس غربت پر اس کو کیا کیا ظلم اٹھانے پڑےجان کھپی ناموس لٹی گھر بار گیا رسوائی ہوئی

۸

جب بولیں ہیں لوگ حرم کے چھاتی پھٹ پھٹ جاوے ہےایک کھڑی تھانبے ہے عابد ایک اسے سمجھاوے ہےایک طرف مچلی ہے سکینہ زینب اس کو مناوے ہےبابا بن وہ روٹھی جو ہے سو منتی نہیں ہے منائی ہوئی

۹

جل کے جگر ہے راکھ کی ڈھیری اور توا ہر چھاتی ہےجوش غبار ملال اٹھے پر آندھی سی اک آتی ہےپات اور بن ہیں جیسے سوکھے جانیں اڑا لے جاتی ہےپہنچے ہے تا عرش اعظم خاک ہماری اڑائی ہوئی

۱۰

ایک بہن کہتی تھی یوں گھر بار ترا کیوں لوٹ لیاکوئی نہ چھوڑا پیچھے جیتا ہائے یہ کیا ستھراؤ کیاکنبہ مر کر ڈھیر ہوا آخر کو تونے جی بھی دیابارے تقصیر ایسی سزا کی کیا تجھ سے اے بھائی ہوئی

۱۱

ایک کہے تھی نوشہ قاسم کیسا بیاہ رچایا تھاکیا ساعت تھی نحس وہ جس میں بیاہنے کو تو آیا تھالگ گئی چپ ہے ایکا ایکی اتنی ہی کیا لایا تھامنھ بولے ہے اب تک تیرے ہاتھ کی مہندی لگائی ہوئی

۱۲

نیگ کی جس کو رسم تھی اس سے کہتی تھی وہ رو رو کررسمیں کتنی باقی تھیں جو یاں سے چلا غمگیں ہوکرجاتے ہی آنکھیں مند گئیں شب کو کیا نہ اٹھا تھا تو سوکرایک نگاہ حسرت ہی کیا سہرے کی میرے بندھائی ہوئی

۱۳

کوئی کہے تھی شبیہ اکبر آنکھوں میں کیونکر اب آوےنقشہ اس کا نقش جو ہے خاطر صفحہ سے کیا جاوےدل کی تڑپ اب جا ہی چکی ہے جان تسلی کیا پاوےجلوہ گری پھر کرتی ہے کوئی صورت ایسی مٹائی ہوئی

۱۴

ظلم اٹھایا جی بھی کھپایا سر کو کٹایا چھاتی جلیپیاسا جی سے گیا دریا پر منت پھر اک خس کی نہ لیشہ جو غیور تھا سوچا جی میں اس جینے سے موت بھلیہاتھ پسارے کون کسی سے شاہی نہیں یہ گدائی ہوئی

۱۵

ایک کہے تھی کوئی ہمارے چھٹکارے کی طرح نہیںظلم و ستم ہے جور و جفا ہے رحم کسو میں ہے بھی کہیںظاہر ہے رفتار فلک سے رکھا ہم کو اسیر یہیںقید حیات سے نکلا کوئی جو بارے اس کی رہائی ہوئی

۱۶

کوئی کہے تھی تونے شاہا جتنے ان سے جور سہےیار و یاور خویش و برادر سارے آکر ٹھور رہےخاک تھے جوکہ انھوں نے اٹھ کر منھ پر کیا کیا حرف کہےہائے رے کیونکر دل میں تیرے ایسے غموں کی سمائی ہوئی

۱۷

ایک کہے تھی ظلم و ستم پوشیدہ نہیں جو کریے بیاںسب پیدا ہیں ان سے جو یہ مارے پڑے ہیں پیر و جواںبھوکے پیاسے اکبر و قاسم خستہ جگر خود شاہ زماںمنھ پہ سبھوں کے نمایاں ہے تلوار ستم کی کھائی ہوئی

۱۸

کوئی کسو ملت میں یارو ایسا ستم بھی کرتا ہےسبط نبی فرزند علی کا ناچاری سے مرتا ہےدل تو چاہے ہے جینے کو پر موت پہ جی کو دھرتا ہےکیا سمجھے تھے شامی کوئی ایسی جن سے برائی ہوئی

۱۹

کیا سمجھی یہ قوم سیہ رو کیا ان نے یہ خیال کیازہر حسن کو دے کر مارا حیدر کا وہ حال کیااب جو حسین رہا تھا بیکس تس کو یوں پامال کیااول سے لے تا آخر کیا ان لوگوں سے بھلائی ہوئی

۲۰

حال عابد کچھ مت پوچھو ایک تو تھا بیمار و نزاردوسرے کنبہ اس کا سارا جور و ستم سے ڈالا مارتیسرے آفت آکر ایسی ٹوٹ پڑی ہے ایک ہی بارچوتھے ایسے حال میں اس کو ویسے پدر سے جدائی ہوئی

۲۱

قصہ کوتہ میرؔ کہاں تک آل عبا کے دکھ سنیےرویئے کڑھیے ماتم کریے کوٹیے چھاتی سر دھنیےجیسے کباب بروے آتش جلیے شام و سحر بھنیےچپ رہ ظالم خوب نہیں اب آگے بات بڑھائی ہوئی

۴۶۹ / ۵۸۲