ابن علی سے سنا ہے یار و دشت بلا میں لڑائی ہوئی

نیگ کی جس کو رسم تھی اس سے کہتی تھی وہ رو رو کررسمیں کتنی باقی تھیں جو یاں سے چلا غمگیں ہوکرجاتے ہی آنکھیں مند گئیں شب کو کیا نہ اٹھا تھا تو سوکرایک نگاہ حسرت ہی کیا سہرے کی میرے بندھائی ہوئی

About this couplet

This is couplet 12 of 21 in “⁨ابن علی سے سنا ہے یار و دشت بلا میں لڑائی ہوئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۲ / ۲۱