ابن علی سے سنا ہے یار و دشت بلا میں لڑائی ہوئی

کیا سمجھی یہ قوم سیہ رو کیا ان نے یہ خیال کیازہر حسن کو دے کر مارا حیدر کا وہ حال کیااب جو حسین رہا تھا بیکس تس کو یوں پامال کیااول سے لے تا آخر کیا ان لوگوں سے بھلائی ہوئی

About this couplet

This is couplet 19 of 21 in “⁨ابن علی سے سنا ہے یار و دشت بلا میں لڑائی ہوئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۹ / ۲۱