کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

اعجاز عشق

۱

ثناے جہاں آفریں ہے محالزباں اس میں جنبش کرے کیا مجال

۲

کمالات اس کے ہیں سب پر عیاںکرے کوئی حمد اس کی سو کیا بیاں

۳

کہوں کیا میں اس کی صفات کمالکہ ہے عقل کل یاں پریشاں خیال

۴

خرد کنہ میں اس کی حیران ہےگماں یاں پریشاں پشیمان ہے

۵

زمین و فلک سب ہیں اس کے حضورمہ و خور ہیں اس سے ہی لبریز نور

۶

یہ صنعت گری اس ہی صانع سے آئےکف خاک کو آدمی کر دکھائے

۷

نہ آوے کسی کے جو ادراک میںسو رکھ جائے وہ اس کف خاک میں

۸

بری ہے گا تمثیل و تشبیہ سےمنزہ ہے وہ بلکہ تنزیہ سے

۹

وہی حاصل مزرع آسماںکیے ان نے دانے میں خرمن نہاں

۱۰

سفید و سیہ کو نہیں اس کی بارورے ہے زمانے کی لیل و نہار

در توحید انشا طراز حسینے کہ فقرۂ یکتائی او بہ عالم دویدہ

۱۱

سوا اس کے نقصاں ہے گر دیکھیےکمال اس کے ہی ہیں جدھر دیکھیے

۱۲

سر رشتہ ہے خلق کا اس کے ہاتھوہ شب باز ان پتلیوں کے ہے ساتھ

۱۳

سبھوں میں نمود اس کی ہی شان ہےیہ قالب ہیں سارے وہی جان ہے

۱۴

گل و غنچہ و رنگ و بو و بہاریہ سب رنگ اللہ ہی کے ہیں یار

۱۵

اگرچہ ہیں یاں سب کی طرحیں جدایہ سب طرحیں ہیں ایک نام خدا

۱۶

سما ارض و خورشید یا ماہ ہےجدھر دیکھو اللہ ہی اللہ ہے

۱۷

نظر کرکے ٹک دیکھ ہر جا ہے وہنہان و عیاں سب میں پیدا ہے وہ

۱۸

بہرصورت آئینہ ہے گا جہاںیہ سب عکس اس کے ہی پڑتے ہیں یاں

۱۹

ملک جن و حیواں جماد و نباتجو اس بن ہیں تو حیف ہے کائنات

۲۰

وجود و عدم اس سے دونوں ہیں شادوہی ہے گا مبدا وہی ہے معاد

۲۱

مجھے ساقی دے کوئی جام عقیقولیکن لبالب ہو اس میں رحیق

۲۲

رکھے آپ میں جس کی آمد مجھےکہ درپیش ہے نعت احمدؐ مجھے

۲۳

در نعت سید المرسلینثنا جان پاک محمدؐ کے تیں

۲۴

درود و تحیات احمدؐ کے تیںرسول خدا و سر انبیا

۲۵

زہے حشمت و جاہ صل علےٰدیا مجلس کبریا کا ہے وہ

۲۶

شرف دودمان قضا کا ہے وہسب اس صفحے میں ہیں ظہور خدا

۲۷

پر اس سے عبارت ہے نور خداجہاں وہ ہے واں جبرئیل امیں

۲۸

اڑے حشر تک تو پہنچتا نہیںکروں اس کی قربت کا کیا میں بیاں

۲۹

کہ تھا قاب قوسین ادنیٰ مکاںمرا زیر پا اس کے فرق نیاز

۳۰

کیا جس کی خلقت پہ صانع نے نازبہ صورت اگر عبد مشہود ہے

۳۱

حقیقت کو پہنچو تو معبود ہےنہیں پاشکستوں کا اب دست گیر

۳۲

محمدؐ بن اور آل بن اس کے میرؔگنہگار ہوں چشم لیک اس سے ہے

۳۳

توقع شفاعت کی ایک اس سے ہےدرود آل پر اس کے ہر صبح و شام

۳۴

وہ ہے شافع حشر و خیر انامپلا ساقیا بادۂ لعل گوں

۳۵

کہ ہوجائیں سرخ آنکھیں مانند خوںہے اب حرف مستانہ کا دل میں جوشکر آویزۂ گوش گر کچھ ہے ہوش

مناجات بہ طور عاشقان زار در بلاے جدائی گرفتار

۳۶

مرا زخم یارب نمایاں رہےپس از مرگ صد سال خنداں رہے

۳۷

رہے دشمنی جیب سے چاک کوصبا دوست رکھے مری خاک کو

۳۸

مژہ اشک خونیں سے سازش کرےغم دل بھی مجھ پر نوازش کرے

۳۹

جگر سے طپیدن موافق رہےمرا درد دل مجھ پہ عاشق رہے

۴۰

جو نالہ ہو شب گیر کا روشناسوہ آٹھوں پہر ہی رہے میرے پاس

۴۱

مژہ گرم افسوس و نم ناک ہوکہ سیلاب آتش پہ خاشاک ہو

۴۲

کرے نیزہ بازی یہ آہ سحرکہ خورشید کی پھوٹ جاوے سپر

۴۳

خموشی سے مجھ کو رہے گفتگواڑے پر لگاکر مرا رنگ رو

۴۴

نہ مرہم سے افسردہ ہو داغ دلشگفتہ رہے یہ گل باغ دل

۴۵

سدا چشم حیرت سے نسبت رہےمجھے دیکھ رہنے کی فرصت رہے

۴۶

اگر ضعف ٹک کسب طاقت کرےمری ناتوانی قیامت کرے

۴۷

مری بیکسی ناز بردار ہومروں میں تو مرنے کو تیار ہو

۴۸

بیاباں میں آشفتہ حالی کروںکہیں تو دل پر کو خالی کروں

۴۹

کریں دونوں عالم ملامت مجھےڈبو دیوے اشک ندامت مجھے

۵۰

مرا ہاتھ ہو چاک کا دستیارکہ تا جیب و دامن ہو قرب و جوار

۵۱

جنوں میرے سر پر سلامت رہےبیاباں میں مجھ سے قیامت رہے

۵۲

بہکنے سے مجھ کو نہ ہو وارہیبھلا دے خضر کو مری گمرہی

۵۳

جو ہو گرم رہ پاے پرآبلہتو ہوجائے سرد آتش قافلہ

۵۴

ارے ساقی اے غیرت آفتابکہاں تک ہمیں خون دل کی شراب

۵۵

کبھو ساغر بادہ کا دید ہومحرم ہمارا کبھو عید ہو

در تعریف عشق خانماں آباد و آزادگان برنا نہاد

۵۶

زہے عشق نیرنگ سازی تریکہ ہے کھیلنا جی پہ بازی تری

۵۷

تجھی سے ہے آب رخ زرد زردتجھی سے مرے دل میں اٹھتا ہے درد

۵۸

تجھے ربط کفار و دیں دار سےتجھے رشتہ تسبیح و زنار سے

۵۹

تجھی سے ہے بلبل کو نوحہ گریتجھی پر ہے قمری بھی خاکستری

۶۰

ترا جذب دریا کو بہنے نہ دےترا شور صحرا کو رہنے نہ دے

۶۱

تجھی سے دل شاد غم ناک ہےتجھی سے مرا سینہ صد چاک ہے

۶۲

تمنا کو تونے کیا ہے شہیدتجھی سے نہ برآئی میری امید

۶۳

تجھی سے ہے مجنون صحرانوردتجھی سے ہے فرہاد کوہوں پہ مرد

۶۴

تجھی سے گلوبند ہے خستگیتجھی سے ہے وابستہ دل بستگی

۶۵

تجھی سے دل عاشقاں ہے کبابتجھی سے ہے پروانہ آتش کا باب

۶۶

ترا کام دینا ہے بدنامیاںتری ریجھ دیکھے ہے ناکامیاں

۶۷

تجھی سے سراسیمہ ہیں یار لوگتری تیغ سے قیمہ ہیں یار لوگ

۶۸

تجھی میں ہیں یہ کارپردازیاںتجھی پر ہیں موقوف جانبازیاں

۶۹

مجھے اس کے چھپنے کا سودا رہاولیکن ترا راز رسوا رہا

۷۰

لہو اپنا عاشق پیا ہی کیےترے جرم پر جی دیا ہی کیے

۷۱

ترا ہی نمک خوار ہے زخم دلکہ مرہم سے بیزار ہے زخم دل

۷۲

تجھے اک ہے مژگاں سے یہ ربط اشککہ مشکل ہوا ہے مجھے ضبط اشک

۷۳

کدھر ہے تو اے ساقی لالہ فامنہ لغزش ہے تجھ بن نہ بہکا کلام

۷۴

کہاں تک کوئی خون دل کو پیےکوئی کیونکے اس رنگ ظالم جیے

زبانی درویش جگر ریش کہ ایں بلا در سفر آمدش پیش

۷۵

کسو معتبر سے روایت ہے ایککہ درویش سے یہ حکایت ہے ایک

۷۶

کہ اک ملک میں میں قضارا گیاجواں ایک واں مفت مارا گیا

۷۷

وہ جس طور مارا گیا اب کہوںتعجب میں اس کے کہاں تک رہوں

۷۸

سن اب آ جو کچھ اس کے جی پر ہوامصیبت زدہ بن اجل ہی موا

۷۹

اٹھا سیر کرنے کو میں ایک روزپشیمانی اس کی ہے مجھ کو ہنوز

۸۰

نظر جا پڑی جو مری ایک سوسر راہ بیٹھا تھا اک خوب رو

۸۱

فقیروں کی سی جھولی ایک اس کے پاسگلے میں نہایت مکلف لباس

۸۲

سر اوپر تھا ہنگامہ اک اس کے جمعپتنگے اکٹھے ہوں جوں گرد شمع

۸۳

لقب اس کا دیوانۂ عشق تھاکہ شہرت میں افسانۂ عشق تھا

۸۴

جوانی کے گلشن کا وہ تازہ گلکرے جس کی خاک قدم غازہ گل

۸۵

اسی کی سی مقدور تک سب کہیںسدا اس کا منھ دیکھتے ہی رہیں

۸۶

وہ اک دودماں کا تھا روشن چراغجلاتے تھے سارے اسی پر دماغ

۸۷

ولے اس کے دل میں اک آتش نہاںکہ دیجے جلا اس سے سارا جہاں

۸۸

سب آرام چاہیں اسے اضطرارسراپا تلک ایک دل بے قرار

۸۹

نہ کچھ ہوش گھر جانے کا اس کو تھاتشتت نہ مرجانے کا اس کو تھا

۹۰

نہ طاقت تھی تن میں نہ کچھ جی میں تابنہ دل پاس نے صبر و آرام و خواب

۹۱

سر راہ دل قیمہ قیمہ لیےیہ کہتا تھا مرجایئے بس جیے

۹۲

سن اس نوگل عشق کی بے کلیرہا کرتی ماتم سرا وہ گلی

۹۳

دل و صبر و ہوش و توان و حواسرہیں اس کی وحشت سے سارے اداس

۹۴

نہ ناموس کا ننگ نے نام کابلا دوست دشمن تھا آرام کا

۹۵

شب و روز فریاد کرنا اسےکئی بار اک دم میں مرنا اسے

۹۶

تماشے کا دیوانہ پیدا ہوازمانے کو چندے تماشا ہوا

۹۷

جو دم لے طپش تو شتابی کرےتسلی دل کی خرابی کرے

۹۸

کرے طرح داغوں سے وہ باغ کوروائی اسی سے زر داغ کو

۹۹

دل غم زدہ سے محبت اسےقیامت خوشی سے عداوت اسے

۱۰۰

وہ بے تابیوں سے بہت کم فراغکہاں صبر کرنے کا اس کو دماغ

۱۰۱

اٹھے اس کے جی سے فغاں کے شرررہے برچھیاں سہتی آہ سحر

۱۰۲

وہ ہرچند ہر صبح کو ہو ملولولیکن دعا اس کی کیا ہو قبول

۱۰۳

نہ آنسو کو اس کے تھی اس پر نظرنہ آہ سحر میں تھا اس کے اثر

۱۰۴

کہے رنگ رو کیوں مرا زرد ہےرکھے ہاتھ دل پر کہ کچھ درد ہے

۱۰۵

کرے دیدۂ اشک افشاں پہ نازبدے لخت دل رونے کی کچھ نیاز

۱۰۶

وہ کاندھے پہ نعش تمنا کے تیںکرے تعزیت خانہ دنیا کے تیں

۱۰۷

سنے نہ کسو کی نہ اپنی کہےبیاں اس کا کچھ گو مگو ہی رہے

۱۰۸

لے آ ساقی گر بادۂ شوق ہےسیہ مستی کا ہم کو بھی ذوق ہے

۱۰۹

کھلا چاہتا ہے گل راز عشقکہ پردے میں کب تک بجے ساز عشق

رفتن درویش پیش آں جوان رفتہ از خویش و دل دہی کردن او بیش از بیش

۱۱۰

یہ قصہ جہاں میں فسانہ ہوامجھے بھی سخن کا بہانہ ہوا

۱۱۱

ولے گاہ وہ شمع مجلس فروزکئی بیتیں پڑھتا تھا وہ سینہ سوز

۱۱۲

کہ جن کا یہ مضمون تھا دوستاںجلے ہے گی تقریر کرتے زباں

۱۱۳

بڑی آتش عشق سرکش ہے یاںجگر کیوں نہ جل جائے آتش ہے یاں

۱۱۴

نظر آ کہیں جارہا ہے یہ جیکہ آنکھوں میں اب آرہا ہے یہ جی

۱۱۵

زن و مرد کی ہوں زباں سے بتنگہوا ہوں میں سارے قبیلے کا ننگ

۱۱۶

سدا خون دل میں طپیدہ ہوں میںکہ آہ بہ لب نارسیدہ ہوں میں

۱۱۷

تری دوری میں پہنچی ہے اے حبیبوداع دم واپسیں بھی قریب

۱۱۸

جگر تو ہو پانی بہا غم کے بیچیہ دم بھی ہوا ہے کوئی دم کے بیچ

۱۱۹

سمجھنا یہ بھی اے مرے سر پہ خاککس امید پر میں ہوا ہوں ہلاک

۱۲۰

تو جب سے در اوپر نظر آگئیرہیں آفتیں میرے سر پر نئی

۱۲۱

نہ نامہ نہ پیغام نے رسم و راہیونہی ہوتی جاتی ہے حالت تباہ

۱۲۲

دل و دیدہ سب مدعی ہوگئےتماشائی مجھ پر بہت رو گئے

۱۲۳

کئی بار جاں لب پر آ پھر گئیکہاں ہے تو اے گل ہوا پھر گئی

۱۲۴

یہ حیران ہوں صبر آتا نہیںتصور ترا جی سے جاتا نہیں

۱۲۵

خراش جگر سے ہے چھاتی میں دردکہ جس سے ہوا جائے ہے رنگ زرد

۱۲۶

رہا کرتی ہے داد بیداد یاںدل شب سے گذرے ہے فریاد یاں

۱۲۷

سر رہ تک آ دیکھ یہ خستہ حالکہ ہے نقش پا کی طرح پائمال

۱۲۸

ترے دور غم میں تو جوں کیمیاسنا ہی گیا نام مہر و وفا

۱۲۹

نہ آنا نظر ہی ادا ہے ولیکنہ اتنا کہ جاتا رہے جی سے ایک

۱۳۰

ترے غم میں اے آفت روزگارہزاروں بلائیں ہیں یاں روبکار

۱۳۱

کہاں ہے تو محمل نشین حیاسر راہ نالاں ہوں مثل درا

۱۳۲

کہہ اس طرز سے حال دل کا تمامخموشی کو پھر اس نے فرمایا کام

۱۳۳

کہاں ہے تو اے ساقی گل عذارکہ دے مجھ کو جام مئے خوش گوار

۱۳۴

کہوں قصۂ عشق بے کیف و کمقلم بے خودانہ کرے کچھ رقم

۱۳۵

مجھے آہ اک اس کے دل کی لگیکہے تو کہ سینے میں برچھی لگی

۱۳۶

گیا زہرۂ تاب دل آب ہوکہا آگے جاکر میں بے تاب ہو

۱۳۷

کہ اے نازپرورد مہر و وفاکوئی اپنے جی پر کرے ہے جفا

۱۳۸

مثل ہے کہ جی ہے تو ہے گا جہاںوگرنہ موئے پر ہے کیا میری جاں

۱۳۹

تلف یوں نہیں جان کرتا کوئینہیں اس سلیقے سے مرتا کوئی

۱۴۰

تہ دل ہو معلوم تا بول ٹکتو مژگان خوں بستہ کو کھول ٹک

۱۴۱

سخن حسرت آلود کہنے پہ آکچھ اک دل کی باتیں زباں پر بھی لا

۱۴۲

وگرنہ تو رک رک کے مرجائے گایہ ہے عشق کام اپنا کر جائے گا

۱۴۳

تو ہے صرصر غم سے آتش بجاںدیا سا نہ بجھ جائیو اے جواں

۱۴۴

تو اے شمع خامش زباں ٹک ہلاکہ کس مجلس افروز سے تو جلا

۱۴۵

تو کس آتش تند پر ہے سپندترا دود دل یہ ہوا ہے بلند

۱۴۶

جلاتی ہے آتش تری میرے تیںکیا داغ کس شعلے نے تیرے تیں

۱۴۷

گھٹا پاتے ہیں تجھ کو ہر صبح و شامنہ کاہیدہ ہو تو ہے ماہ تمام

۱۴۸

ترا درد پنہاں ہے گو آشکاریہ مجھ سے بیاں کر کہ ہوں رازدار

۱۴۹

کہیں دل لگا ہو تو یہ مجھ سے کہہکہوں اس سے جاکر غمیں تو نہ رہ

۱۵۰

جہاں کو تو بھیجے وہاں جاؤں میںکہے کام جو تو بجا لاؤں میں

۱۵۱

جو حور بہشتی بھی ہو تیری یارکروں میں ملک کی طرح واں گذار

۱۵۲

خدا جانے کیا جی میں بات آگئیکہ یہ میری دل جوئی ہی بھا گئی

۱۵۳

یہ سن کر جوان زخود رفتہ نےجگر سوختہ اور دل تفتہ نے

۱۵۴

کیا سوز دل کو لبوں پر نمودزباں تاب کھانے لگی جیسے دود

۱۵۵

سخن ہونے لاگے نمودار کچھلگا کرنے پیچیدہ گفتار کچھ

۱۵۶

کہ جس سے یہ معنی ہوئے مستفادکہ اے غم گسار دل نامراد

۱۵۷

جو دل جوئی میری ہے مدنظرتو یاں اک محلہ ہے ٹک قصد کر

۱۵۸

نہیں اس کو درکار کچھ جستجوسرا ایک ترسا کی ہے قبلہ رو

۱۵۹

زبانی مری در پہ یہ جا کے کہہکہ احوال سے میرے غافل نہ رہ

۱۶۰

ترے واسطے خوب رسوا ہوامرے سر پہ ہنگامہ برپا ہوا

۱۶۱

تسلی شکیبائی مطلق نہیںپر اب تاب تنہائی مطلق نہیں

۱۶۲

رہی جب تلک تن میں تاب و تواںاٹھایا تحمل کا بار گراں

۱۶۳

شتابی سے دے ساقیا جام عشقکہ لکھنے لگا ہوں میں پیغام عشق

۱۶۴

ہوا آخر اب دل کا سب خون نابپیوں کب تلک اک گلابی شراب

۱۶۵

کہے سے جواں کے غرض قصد کرگیا بندہ ترسا کے دروازے پر

۱۶۶

سن آواز دستک کی اک رشک حورمہ چاردہ سی نپٹ باشعور

۱۶۷

دوچار آکے مجھ سے ہوئی ایک بارگیا جس کے دیکھے سے صبر و قرار

۱۶۸

ہوئی دیکھے سے جب حقیقت عیاںکہا میں کہ تاجر پسر تھا جہاں

۱۶۹

بشر کیا ہے دیکھ ایسی آفت کے تیںفرشتہ بھی رو بیٹھے عصمت کے تیں

۱۷۰

کہا میں نے پیغام جو آیا بنپہ خوبی سے اس کی کروں کیا سخن

۱۷۱

مژہ بخت عاشق کی برگشتگینگہ ایک عالم کی سرگشتگی

۱۷۲

قد و قامت اس کا کروں کیا بیاںقیامت کا ٹکڑا ہوا تھا عیاں

۱۷۳

وہ نازاں جدھر آتی تھی اچپلیقیامت بھی آتی جلو میں چلی

۱۷۴

میں سودائی اس زلف تاریک کاہر اک مو سبب رنج باریک کا

۱۷۵

شکن اس کی کاکل کا دام بلاہر اک حلقۂ زلف کام بلا

۱۷۶

بھووں کی کمانوں سے لگ زلف تارالٹتے تھے اڑ اڑ کے جوں تیرمار

۱۷۷

اگر ابرو اس کی جھمک جاتی تھیمہ نو کی گردن ڈھلک جاتی تھی

۱۷۸

ہلے اس کے ابرو جدھر کرکے نازکرے اس طرف ایک عالم نماز

۱۷۹

کمان اس کے ابرو کی عاشق کمیںخدنگ اس کی مژگاں کے سب دل نشیں

۱۸۰

نہ آنکھوں کی مستی کی اس کو خبرخرابی نہ عاشق کی مدنظر

۱۸۱

نگہدار تھی سرخی چشم کیطرفدار تھی اپنے ہی خشم کی

۱۸۲

شہید اس کی چشمک کے دل خستگاںنشانے نگاہوں کے دل بستگاں

۱۸۳

مژہ موجب قتل جمع کثیرغرض سب تھے یہ ایک ترکش کے تیر

۱۸۴

چھپیں اس کے غمزے میں کتنی سناںنمایاں ہوئی سب پہ مرگ جہاں

۱۸۵

جبیں کھول دی اس پری زاد نےکہ چیں مانی خوبان نوشاد نے

۱۸۶

رواں اس شب افروز سے اشک شمعیہیں سے ہے روشن کہ تھی رشک شمع

۱۸۷

وہ مردوں کو زندہ دوبارہ کرےمسیحا جہاں سے کنارہ کرے

۱۸۸

پری منفعل رنگ رخسار سےخجل کبک انداز رفتار سے

۱۸۹

خضر تشنہ اس کے ہے دیدار کامسیحا شہید اس کے بیمار کا

۱۹۰

سوا اس کی باتوں کے سب باتیں ہیںجسے سن کے مردے بھی جی جاتے ہیں

۱۹۱

غرض اور سب یونہی کہنے کو ہیںمسیحا کے لب یونہی کہنے کو ہیں

۱۹۲

لب سرخ اس کے وہ گل برگ ترچھپیں جن میں دنداں کے سلک گہر

۱۹۳

تبسم میں اپنے وہ برق بہاردم حرف ہوتے گئے آبدار

۱۹۴

دہن غنچۂ ناشگفتہ سے کمسخن رہرو راہ تنگ عدم

۱۹۵

تبسم ٹک اک گر وہ دلکش کرےتو گلشن میں گل صد چمن غش کرے

۱۹۶

نہ دیکھا کسی نے جو تن اس کا صافنظر گر نہ ٹھہرے تو کیجے معاف

۱۹۷

کمر اس کی ممکن نہیں ہاتھ آئےمگر صاحب دست غیب اس کو پائے

۱۹۸

نہ رنگ صفا ہی فقط تن پہ تھاکہ مینا کا خون اس کی گردن پہ تھا

۱۹۹

کیا ان نے پامال فتنوں کا خوںحنا اس کے ہاتھوں میں کتنوں کا خوں

۲۰۰

ادا اس کی عاشق کے جی کی بلانہ میری تمھاری سبھی کی بلا

۲۰۱

اگر جلوہ گر ہو وہ محشر خرامتو معلوم ہے پھر جہاں کا قیام

۲۰۲

خراماں خراماں جدھر آگئیقیامت ہی گویا ادھر آگئی

۲۰۳

اسے لغزش پا مئے ناز سےوہ مست سر انداز انداز سے

۲۰۴

نہ ہووے وہ دن جس میں ہووے نقابچلا جائے پردے ہی میں آفتاب

۲۰۵

اسی بت کا ہر اک تئیں ذکر ہےخدا کو خدائی کا اب فکر ہے

۲۰۶

چڑھاوے اگر ہاتھ سے آستیںتو پھر دست موسیٰ بھی کچھ ہے نہیں

۲۰۷

ہوئیں طرح اس سے جفاکاریاںنکالی ہیں ان نے دل آزاریاں

۲۰۸

ترحم کو پاؤں تلے وہ ملےستم اس کے کوچے سے بچ کر چلے

۲۰۹

جو آمد ہو اس کی نصیب چمنکرے ترک گل عندلیب چمن

۲۱۰

گلی اس کی فردوس کا تھی شرفبہشت اک گنہگار سی اک طرف

۲۱۱

زمیں اس کی یک دست گلزار تھینسیم چمن واں گرفتار تھی

۲۱۲

گلی اس کی وہ قتل گاہ عجیبشہادت وہاں خضر کو ہو نصیب

۲۱۳

وہی جاے باش دل عاشقاںاسی پر معاش دل عاشقاں

۲۱۴

صبا گر اڑا دے تنک واں کی خاکتو نکلے زمیں سے دل چاک چاک

۲۱۵

کئی نعرہ کش واں کئی نعرہ زنکئی خوں گرفتہ کئی بے کفن

۲۱۶

کئی بے وطن واں سفر کر گئےسسکتے ہیں کتنے کئی مر گئے

۲۱۷

ہر اک جان ہر شخص ناکام کیہوادار اس کے لب بام کی

۲۱۸

پھروں گرد ساقی نشے میں ترےگلابی ہی منھ کو لگادے مرے

۲۱۹

مجھے مست آب سیہ دے کے کرچلوں جوں قلم پھر میں مطلب اپر

۲۲۰

سنا وہ جگرسوز پیغام جبکیے آشنا حرف سے لعل لب

۲۲۱

پڑھی اک رباعی نہ کر اعتناکہ مضمون جس کا یہ موزوں ہوا

۲۲۲

کہ ہجراں میں جو بے قراری کرےسر راہ فریاد و زاری کرے

۲۲۳

نہ سونے دے نالوں سے ہمسایہ کوبھلی مرگ ایسے فرومایہ کو

۲۲۴

محبت کی رہ میں یہ پہلا ہے کامکہ سر سے گذر جائیے شاد کام

۲۲۵

نہیں شرط الفت میں چین جبیںاگر پیش آوے دم واپسیں

۲۲۶

جو پھوٹا ہی پڑتا ہو جوں آبلہوہ ہے دم میں واماندۂ قافلہ

۲۲۷

نہ جو ہوسکے ہجر کا پائمالتو بہتر ہے ہونا ہی اس کا وصال

۲۲۸

گیا میں جواب اس سے لے کر ادھرسر رہ تھا پامال غم وہ جدھر

۲۲۹

حقیقت بیاں کی سب اس جاے کیجواں نے یہ سنتے ہی اک ہائے کی

۲۳۰

گئی ساتھ اس ہائے کے اس کی جاںگرا خاک پر ہوکے بے دم جواں

۲۳۱

تکے تھا مگر رہ سفر کر گیاکہ اک بات کی بات میں مر گیا

۲۳۲

نہ دیر اس کو ہوتے ہوئے جی سے سیرمجھے بات کے کہتے لاگی بھی دیر

۲۳۳

مری بات میں خون بلبل ہوادیا سا وہ جلتا جو تھا گل ہوا

۲۳۴

میں یہ واقعہ دیکھ گھبرا گیاکہ یوں یہ گل تازہ مرجھا گیا

۲۳۵

نہ سوجھا مجھے اور کچھ اس سواکہ کریے بیاں طرف ثانی سے جا

۲۳۶

ملامت کروں اس کو میں یک جہاںکہ اے بے حقیقت گئی اس کی جاں

۲۳۷

ترے ناز بیجا کا تو کیا گیاپر اک بے گنہ اس میں مارا گیا

۲۳۸

رہی گھر میں خوبی پہ تجھ کو نظرسر رہ گیا ایک جی سے گذر

۲۳۹

ہے اب مشت خاک اس کی ذلت کا بابترے آستاں بن ہے مٹی خراب

۲۴۰

یہ ٹھہرا میں اودھر روانہ ہواادھر مرنا اس کا فسانہ ہوا

۲۴۱

پلا ساقی ماہ وش ایک جامگیا کاستن ہی میں ماہ تمام

۲۴۲

کہاں ہے وہ خون کبوتر سی مےکہ پی کر فغاں کیجیے مثل نے

۲۴۳

غرض جوں توں کر قطع میں راہ کیگیا تھی جہاں منزل اس ماہ کی

۲۴۴

کی آواز دستک کہ بار دگرہوئی گھر میں القصہ میری خبر

۲۴۵

در خانہ پر آئی اک پیر زنلگی کرنے عشق جواں سے سخن

۲۴۶

کہ کیوں دوسری بار آیا ہے توشگوفہ مگر اور لایا ہے تو

۲۴۷

کوئی رہ گیا تھا پیام جواںجو تو پھر شتابی سے آیا یہاں

۲۴۸

بیاں کر جو کہنا ہو تجھ کو شتابکہ ہے منتظر غیرت آفتاب

۲۴۹

کہا میں نے اے پیر زن کیا کہوںعزادار اس نوجواں کا میں ہوں

۲۵۰

پیام اس کا لایا تھا میں اس لیےکہ وہ بے اجل مرتا ہے ٹک جیے

۲۵۱

سو یاں سے گیا لے کر ایسا جوابکہ جس سے نکلتا تھا ناز و عتاب

۲۵۲

نہ تھی تاب حرف درشت اس کے تیںکیا غم نے تھا نیم کشت اس کے تیں

۲۵۳

نہ مشغول یوں ہی وہ زاری سے تھاوہ بے تاب بے اختیاری سے تھا

۲۵۴

نہ سمجھی یہ رشک پری اس کے تیںدکھائی دی عشوہ گری اس کے تیں

۲۵۵

چڑھا ان نے تیوری اک انداز سےکہا بے مزہ ہو کے یوں ناز سے

۲۵۶

کہ جس کو نہ ہو تاب لانے کی تابشتابی سے مرنا ہے اس کا صواب

۲۵۷

ہوا سامنے اس کے میں حرف زنیہ اس کی زباں سے کہا میں سخن

۲۵۸

جواں سنتے ہی کرکے ایدھر نگاہسفر کر گیا جان سے بھر کر آہ

۲۵۹

یہی ماجرا کہنے آیا ہوں یاںخبر اس کے مرنے کی لایا ہوں یاں

۲۶۰

کہہ اس سے کہ اے کشتۂ غم کی جاںگیا آخرالامر جی سے جواں

۲۶۱

یہ کہہ دس قدم واں سے میں تھا چلاکہ اک شور کانوں میں میرے پڑا

۲۶۲

گذرنے لگی دل سے آواز آہلگا ہونے آنکھوں میں عالم سیاہ

۲۶۳

صدا ایک نوحے کی آنے لگیکہ یعنی وہ دختر ٹھکانے لگی

۲۶۴

محبت نے کام اپنا پورا کیاکہ ان دونوں لعلوں کو چورا کیا

۲۶۵

فقیر آن کر سخت نادم ہواکہ میرے سبب دونوں کا جی گیا

۲۶۶

یہ بھی جاے گریہ ہے ساقی سناکہ بدلے گزک کے ہے یاں دل بھنا

۲۶۷

تھوڑی دارو دے سایۂ تاک میںبہ رنگ گل اب لوٹیے خاک میں

مقولۂ شاعر

۲۶۸

عجب کی نہیں جا نہ کھا پیچ و تابیہ اے میرؔ ہے عشق خانہ خراب

۲۶۹

سنا ہے کہ فرہاد پر کیا ہواپھر اس عشق نے شیریں سے کیا کیا

۲۷۰

عزا کا ہے مجنوں کی نوحہ پڑاسیہ خیمہ لیلیٰ کا بھی ہے کھڑا

۲۷۱

گئی جان وامق کی کس رنگ سےہوا چاک عذرا کا سر سنگ سے

۲۷۲

گئی آہ نل کی فلک سے ادھردمن ہے بگولہ زمیں کے اپر

۲۷۳

بہت عشق کی آگ میں جل گئےبہت اٹھتے جاتے ہیں شعلے نئے

۲۷۴

گئی جل کے آخر پتنگوں کی جاںچراغوں سے اک دود دل ہے کشاں

۲۷۵

ہے بے تاب ذرہ اسی سے کبابجلے ہے اسی آگ میں آفتاب

۲۷۶

دل اس داغ سے مہ کا بھنتا ہی ہےکتاں کا جگر چاک سنتا ہی ہے

۲۷۷

سیہ رنگ اگتا ہے سرو سہیوہی رنگ قمری ہے خاکستری

۲۷۸

بھنور کے بھی جی پر پڑے گل کئیکنول کی کھلی آنکھ پھر مند گئی

۲۷۹

کوئی نالہ بلبل سے ہے یادگارخزاں اس چمن میں ہے گل کی بہار

۲۸۰

کہیں ساقی دے آب گل رنگ کوکشادہ بھی کر اس دل تنگ کو

۲۸۱

گلے لگ کے مینا کے ٹک رویئےفسانہ بھی آخر ہے اب سویئے

۴۷۰ / ۵۸۲