کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
اعجاز عشق
ثناے جہاں آفریں ہے محالزباں اس میں جنبش کرے کیا مجال
کمالات اس کے ہیں سب پر عیاںکرے کوئی حمد اس کی سو کیا بیاں
کہوں کیا میں اس کی صفات کمالکہ ہے عقل کل یاں پریشاں خیال
خرد کنہ میں اس کی حیران ہےگماں یاں پریشاں پشیمان ہے
زمین و فلک سب ہیں اس کے حضورمہ و خور ہیں اس سے ہی لبریز نور
یہ صنعت گری اس ہی صانع سے آئےکف خاک کو آدمی کر دکھائے
نہ آوے کسی کے جو ادراک میںسو رکھ جائے وہ اس کف خاک میں
بری ہے گا تمثیل و تشبیہ سےمنزہ ہے وہ بلکہ تنزیہ سے
وہی حاصل مزرع آسماںکیے ان نے دانے میں خرمن نہاں
سفید و سیہ کو نہیں اس کی بارورے ہے زمانے کی لیل و نہار
در توحید انشا طراز حسینے کہ فقرۂ یکتائی او بہ عالم دویدہ
سوا اس کے نقصاں ہے گر دیکھیےکمال اس کے ہی ہیں جدھر دیکھیے
سر رشتہ ہے خلق کا اس کے ہاتھوہ شب باز ان پتلیوں کے ہے ساتھ
سبھوں میں نمود اس کی ہی شان ہےیہ قالب ہیں سارے وہی جان ہے
گل و غنچہ و رنگ و بو و بہاریہ سب رنگ اللہ ہی کے ہیں یار
اگرچہ ہیں یاں سب کی طرحیں جدایہ سب طرحیں ہیں ایک نام خدا
سما ارض و خورشید یا ماہ ہےجدھر دیکھو اللہ ہی اللہ ہے
نظر کرکے ٹک دیکھ ہر جا ہے وہنہان و عیاں سب میں پیدا ہے وہ
بہرصورت آئینہ ہے گا جہاںیہ سب عکس اس کے ہی پڑتے ہیں یاں
ملک جن و حیواں جماد و نباتجو اس بن ہیں تو حیف ہے کائنات
وجود و عدم اس سے دونوں ہیں شادوہی ہے گا مبدا وہی ہے معاد
مجھے ساقی دے کوئی جام عقیقولیکن لبالب ہو اس میں رحیق
رکھے آپ میں جس کی آمد مجھےکہ درپیش ہے نعت احمدؐ مجھے
در نعت سید المرسلینثنا جان پاک محمدؐ کے تیں
درود و تحیات احمدؐ کے تیںرسول خدا و سر انبیا
زہے حشمت و جاہ صل علےٰدیا مجلس کبریا کا ہے وہ
شرف دودمان قضا کا ہے وہسب اس صفحے میں ہیں ظہور خدا
پر اس سے عبارت ہے نور خداجہاں وہ ہے واں جبرئیل امیں
اڑے حشر تک تو پہنچتا نہیںکروں اس کی قربت کا کیا میں بیاں
کہ تھا قاب قوسین ادنیٰ مکاںمرا زیر پا اس کے فرق نیاز
کیا جس کی خلقت پہ صانع نے نازبہ صورت اگر عبد مشہود ہے
حقیقت کو پہنچو تو معبود ہےنہیں پاشکستوں کا اب دست گیر
محمدؐ بن اور آل بن اس کے میرؔگنہگار ہوں چشم لیک اس سے ہے
توقع شفاعت کی ایک اس سے ہےدرود آل پر اس کے ہر صبح و شام
وہ ہے شافع حشر و خیر انامپلا ساقیا بادۂ لعل گوں
کہ ہوجائیں سرخ آنکھیں مانند خوںہے اب حرف مستانہ کا دل میں جوشکر آویزۂ گوش گر کچھ ہے ہوش
مناجات بہ طور عاشقان زار در بلاے جدائی گرفتار
مرا زخم یارب نمایاں رہےپس از مرگ صد سال خنداں رہے
رہے دشمنی جیب سے چاک کوصبا دوست رکھے مری خاک کو
مژہ اشک خونیں سے سازش کرےغم دل بھی مجھ پر نوازش کرے
جگر سے طپیدن موافق رہےمرا درد دل مجھ پہ عاشق رہے
جو نالہ ہو شب گیر کا روشناسوہ آٹھوں پہر ہی رہے میرے پاس
مژہ گرم افسوس و نم ناک ہوکہ سیلاب آتش پہ خاشاک ہو
کرے نیزہ بازی یہ آہ سحرکہ خورشید کی پھوٹ جاوے سپر
خموشی سے مجھ کو رہے گفتگواڑے پر لگاکر مرا رنگ رو
نہ مرہم سے افسردہ ہو داغ دلشگفتہ رہے یہ گل باغ دل
سدا چشم حیرت سے نسبت رہےمجھے دیکھ رہنے کی فرصت رہے
اگر ضعف ٹک کسب طاقت کرےمری ناتوانی قیامت کرے
مری بیکسی ناز بردار ہومروں میں تو مرنے کو تیار ہو
بیاباں میں آشفتہ حالی کروںکہیں تو دل پر کو خالی کروں
کریں دونوں عالم ملامت مجھےڈبو دیوے اشک ندامت مجھے
مرا ہاتھ ہو چاک کا دستیارکہ تا جیب و دامن ہو قرب و جوار
جنوں میرے سر پر سلامت رہےبیاباں میں مجھ سے قیامت رہے
بہکنے سے مجھ کو نہ ہو وارہیبھلا دے خضر کو مری گمرہی
جو ہو گرم رہ پاے پرآبلہتو ہوجائے سرد آتش قافلہ
ارے ساقی اے غیرت آفتابکہاں تک ہمیں خون دل کی شراب
کبھو ساغر بادہ کا دید ہومحرم ہمارا کبھو عید ہو
در تعریف عشق خانماں آباد و آزادگان برنا نہاد
زہے عشق نیرنگ سازی تریکہ ہے کھیلنا جی پہ بازی تری
تجھی سے ہے آب رخ زرد زردتجھی سے مرے دل میں اٹھتا ہے درد
تجھے ربط کفار و دیں دار سےتجھے رشتہ تسبیح و زنار سے
تجھی سے ہے بلبل کو نوحہ گریتجھی پر ہے قمری بھی خاکستری
ترا جذب دریا کو بہنے نہ دےترا شور صحرا کو رہنے نہ دے
تجھی سے دل شاد غم ناک ہےتجھی سے مرا سینہ صد چاک ہے
تمنا کو تونے کیا ہے شہیدتجھی سے نہ برآئی میری امید
تجھی سے ہے مجنون صحرانوردتجھی سے ہے فرہاد کوہوں پہ مرد
تجھی سے گلوبند ہے خستگیتجھی سے ہے وابستہ دل بستگی
تجھی سے دل عاشقاں ہے کبابتجھی سے ہے پروانہ آتش کا باب
ترا کام دینا ہے بدنامیاںتری ریجھ دیکھے ہے ناکامیاں
تجھی سے سراسیمہ ہیں یار لوگتری تیغ سے قیمہ ہیں یار لوگ
تجھی میں ہیں یہ کارپردازیاںتجھی پر ہیں موقوف جانبازیاں
مجھے اس کے چھپنے کا سودا رہاولیکن ترا راز رسوا رہا
لہو اپنا عاشق پیا ہی کیےترے جرم پر جی دیا ہی کیے
ترا ہی نمک خوار ہے زخم دلکہ مرہم سے بیزار ہے زخم دل
تجھے اک ہے مژگاں سے یہ ربط اشککہ مشکل ہوا ہے مجھے ضبط اشک
کدھر ہے تو اے ساقی لالہ فامنہ لغزش ہے تجھ بن نہ بہکا کلام
کہاں تک کوئی خون دل کو پیےکوئی کیونکے اس رنگ ظالم جیے
زبانی درویش جگر ریش کہ ایں بلا در سفر آمدش پیش
کسو معتبر سے روایت ہے ایککہ درویش سے یہ حکایت ہے ایک
کہ اک ملک میں میں قضارا گیاجواں ایک واں مفت مارا گیا
وہ جس طور مارا گیا اب کہوںتعجب میں اس کے کہاں تک رہوں
سن اب آ جو کچھ اس کے جی پر ہوامصیبت زدہ بن اجل ہی موا
اٹھا سیر کرنے کو میں ایک روزپشیمانی اس کی ہے مجھ کو ہنوز
نظر جا پڑی جو مری ایک سوسر راہ بیٹھا تھا اک خوب رو
فقیروں کی سی جھولی ایک اس کے پاسگلے میں نہایت مکلف لباس
سر اوپر تھا ہنگامہ اک اس کے جمعپتنگے اکٹھے ہوں جوں گرد شمع
لقب اس کا دیوانۂ عشق تھاکہ شہرت میں افسانۂ عشق تھا
جوانی کے گلشن کا وہ تازہ گلکرے جس کی خاک قدم غازہ گل
اسی کی سی مقدور تک سب کہیںسدا اس کا منھ دیکھتے ہی رہیں
وہ اک دودماں کا تھا روشن چراغجلاتے تھے سارے اسی پر دماغ
ولے اس کے دل میں اک آتش نہاںکہ دیجے جلا اس سے سارا جہاں
سب آرام چاہیں اسے اضطرارسراپا تلک ایک دل بے قرار
نہ کچھ ہوش گھر جانے کا اس کو تھاتشتت نہ مرجانے کا اس کو تھا
نہ طاقت تھی تن میں نہ کچھ جی میں تابنہ دل پاس نے صبر و آرام و خواب
سر راہ دل قیمہ قیمہ لیےیہ کہتا تھا مرجایئے بس جیے
سن اس نوگل عشق کی بے کلیرہا کرتی ماتم سرا وہ گلی
دل و صبر و ہوش و توان و حواسرہیں اس کی وحشت سے سارے اداس
نہ ناموس کا ننگ نے نام کابلا دوست دشمن تھا آرام کا
شب و روز فریاد کرنا اسےکئی بار اک دم میں مرنا اسے
تماشے کا دیوانہ پیدا ہوازمانے کو چندے تماشا ہوا
جو دم لے طپش تو شتابی کرےتسلی دل کی خرابی کرے
کرے طرح داغوں سے وہ باغ کوروائی اسی سے زر داغ کو
دل غم زدہ سے محبت اسےقیامت خوشی سے عداوت اسے
وہ بے تابیوں سے بہت کم فراغکہاں صبر کرنے کا اس کو دماغ
اٹھے اس کے جی سے فغاں کے شرررہے برچھیاں سہتی آہ سحر
وہ ہرچند ہر صبح کو ہو ملولولیکن دعا اس کی کیا ہو قبول
نہ آنسو کو اس کے تھی اس پر نظرنہ آہ سحر میں تھا اس کے اثر
کہے رنگ رو کیوں مرا زرد ہےرکھے ہاتھ دل پر کہ کچھ درد ہے
کرے دیدۂ اشک افشاں پہ نازبدے لخت دل رونے کی کچھ نیاز
وہ کاندھے پہ نعش تمنا کے تیںکرے تعزیت خانہ دنیا کے تیں
سنے نہ کسو کی نہ اپنی کہےبیاں اس کا کچھ گو مگو ہی رہے
لے آ ساقی گر بادۂ شوق ہےسیہ مستی کا ہم کو بھی ذوق ہے
کھلا چاہتا ہے گل راز عشقکہ پردے میں کب تک بجے ساز عشق
رفتن درویش پیش آں جوان رفتہ از خویش و دل دہی کردن او بیش از بیش
یہ قصہ جہاں میں فسانہ ہوامجھے بھی سخن کا بہانہ ہوا
ولے گاہ وہ شمع مجلس فروزکئی بیتیں پڑھتا تھا وہ سینہ سوز
کہ جن کا یہ مضمون تھا دوستاںجلے ہے گی تقریر کرتے زباں
بڑی آتش عشق سرکش ہے یاںجگر کیوں نہ جل جائے آتش ہے یاں
نظر آ کہیں جارہا ہے یہ جیکہ آنکھوں میں اب آرہا ہے یہ جی
زن و مرد کی ہوں زباں سے بتنگہوا ہوں میں سارے قبیلے کا ننگ
سدا خون دل میں طپیدہ ہوں میںکہ آہ بہ لب نارسیدہ ہوں میں
تری دوری میں پہنچی ہے اے حبیبوداع دم واپسیں بھی قریب
جگر تو ہو پانی بہا غم کے بیچیہ دم بھی ہوا ہے کوئی دم کے بیچ
سمجھنا یہ بھی اے مرے سر پہ خاککس امید پر میں ہوا ہوں ہلاک
تو جب سے در اوپر نظر آگئیرہیں آفتیں میرے سر پر نئی
نہ نامہ نہ پیغام نے رسم و راہیونہی ہوتی جاتی ہے حالت تباہ
دل و دیدہ سب مدعی ہوگئےتماشائی مجھ پر بہت رو گئے
کئی بار جاں لب پر آ پھر گئیکہاں ہے تو اے گل ہوا پھر گئی
یہ حیران ہوں صبر آتا نہیںتصور ترا جی سے جاتا نہیں
خراش جگر سے ہے چھاتی میں دردکہ جس سے ہوا جائے ہے رنگ زرد
رہا کرتی ہے داد بیداد یاںدل شب سے گذرے ہے فریاد یاں
سر رہ تک آ دیکھ یہ خستہ حالکہ ہے نقش پا کی طرح پائمال
ترے دور غم میں تو جوں کیمیاسنا ہی گیا نام مہر و وفا
نہ آنا نظر ہی ادا ہے ولیکنہ اتنا کہ جاتا رہے جی سے ایک
ترے غم میں اے آفت روزگارہزاروں بلائیں ہیں یاں روبکار
کہاں ہے تو محمل نشین حیاسر راہ نالاں ہوں مثل درا
کہہ اس طرز سے حال دل کا تمامخموشی کو پھر اس نے فرمایا کام
کہاں ہے تو اے ساقی گل عذارکہ دے مجھ کو جام مئے خوش گوار
کہوں قصۂ عشق بے کیف و کمقلم بے خودانہ کرے کچھ رقم
مجھے آہ اک اس کے دل کی لگیکہے تو کہ سینے میں برچھی لگی
گیا زہرۂ تاب دل آب ہوکہا آگے جاکر میں بے تاب ہو
کہ اے نازپرورد مہر و وفاکوئی اپنے جی پر کرے ہے جفا
مثل ہے کہ جی ہے تو ہے گا جہاںوگرنہ موئے پر ہے کیا میری جاں
تلف یوں نہیں جان کرتا کوئینہیں اس سلیقے سے مرتا کوئی
تہ دل ہو معلوم تا بول ٹکتو مژگان خوں بستہ کو کھول ٹک
سخن حسرت آلود کہنے پہ آکچھ اک دل کی باتیں زباں پر بھی لا
وگرنہ تو رک رک کے مرجائے گایہ ہے عشق کام اپنا کر جائے گا
تو ہے صرصر غم سے آتش بجاںدیا سا نہ بجھ جائیو اے جواں
تو اے شمع خامش زباں ٹک ہلاکہ کس مجلس افروز سے تو جلا
تو کس آتش تند پر ہے سپندترا دود دل یہ ہوا ہے بلند
جلاتی ہے آتش تری میرے تیںکیا داغ کس شعلے نے تیرے تیں
گھٹا پاتے ہیں تجھ کو ہر صبح و شامنہ کاہیدہ ہو تو ہے ماہ تمام
ترا درد پنہاں ہے گو آشکاریہ مجھ سے بیاں کر کہ ہوں رازدار
کہیں دل لگا ہو تو یہ مجھ سے کہہکہوں اس سے جاکر غمیں تو نہ رہ
جہاں کو تو بھیجے وہاں جاؤں میںکہے کام جو تو بجا لاؤں میں
جو حور بہشتی بھی ہو تیری یارکروں میں ملک کی طرح واں گذار
خدا جانے کیا جی میں بات آگئیکہ یہ میری دل جوئی ہی بھا گئی
یہ سن کر جوان زخود رفتہ نےجگر سوختہ اور دل تفتہ نے
کیا سوز دل کو لبوں پر نمودزباں تاب کھانے لگی جیسے دود
سخن ہونے لاگے نمودار کچھلگا کرنے پیچیدہ گفتار کچھ
کہ جس سے یہ معنی ہوئے مستفادکہ اے غم گسار دل نامراد
جو دل جوئی میری ہے مدنظرتو یاں اک محلہ ہے ٹک قصد کر
نہیں اس کو درکار کچھ جستجوسرا ایک ترسا کی ہے قبلہ رو
زبانی مری در پہ یہ جا کے کہہکہ احوال سے میرے غافل نہ رہ
ترے واسطے خوب رسوا ہوامرے سر پہ ہنگامہ برپا ہوا
تسلی شکیبائی مطلق نہیںپر اب تاب تنہائی مطلق نہیں
رہی جب تلک تن میں تاب و تواںاٹھایا تحمل کا بار گراں
شتابی سے دے ساقیا جام عشقکہ لکھنے لگا ہوں میں پیغام عشق
ہوا آخر اب دل کا سب خون نابپیوں کب تلک اک گلابی شراب
کہے سے جواں کے غرض قصد کرگیا بندہ ترسا کے دروازے پر
سن آواز دستک کی اک رشک حورمہ چاردہ سی نپٹ باشعور
دوچار آکے مجھ سے ہوئی ایک بارگیا جس کے دیکھے سے صبر و قرار
ہوئی دیکھے سے جب حقیقت عیاںکہا میں کہ تاجر پسر تھا جہاں
بشر کیا ہے دیکھ ایسی آفت کے تیںفرشتہ بھی رو بیٹھے عصمت کے تیں
کہا میں نے پیغام جو آیا بنپہ خوبی سے اس کی کروں کیا سخن
مژہ بخت عاشق کی برگشتگینگہ ایک عالم کی سرگشتگی
قد و قامت اس کا کروں کیا بیاںقیامت کا ٹکڑا ہوا تھا عیاں
وہ نازاں جدھر آتی تھی اچپلیقیامت بھی آتی جلو میں چلی
میں سودائی اس زلف تاریک کاہر اک مو سبب رنج باریک کا
شکن اس کی کاکل کا دام بلاہر اک حلقۂ زلف کام بلا
بھووں کی کمانوں سے لگ زلف تارالٹتے تھے اڑ اڑ کے جوں تیرمار
اگر ابرو اس کی جھمک جاتی تھیمہ نو کی گردن ڈھلک جاتی تھی
ہلے اس کے ابرو جدھر کرکے نازکرے اس طرف ایک عالم نماز
کمان اس کے ابرو کی عاشق کمیںخدنگ اس کی مژگاں کے سب دل نشیں
نہ آنکھوں کی مستی کی اس کو خبرخرابی نہ عاشق کی مدنظر
نگہدار تھی سرخی چشم کیطرفدار تھی اپنے ہی خشم کی
شہید اس کی چشمک کے دل خستگاںنشانے نگاہوں کے دل بستگاں
مژہ موجب قتل جمع کثیرغرض سب تھے یہ ایک ترکش کے تیر
چھپیں اس کے غمزے میں کتنی سناںنمایاں ہوئی سب پہ مرگ جہاں
جبیں کھول دی اس پری زاد نےکہ چیں مانی خوبان نوشاد نے
رواں اس شب افروز سے اشک شمعیہیں سے ہے روشن کہ تھی رشک شمع
وہ مردوں کو زندہ دوبارہ کرےمسیحا جہاں سے کنارہ کرے
پری منفعل رنگ رخسار سےخجل کبک انداز رفتار سے
خضر تشنہ اس کے ہے دیدار کامسیحا شہید اس کے بیمار کا
سوا اس کی باتوں کے سب باتیں ہیںجسے سن کے مردے بھی جی جاتے ہیں
غرض اور سب یونہی کہنے کو ہیںمسیحا کے لب یونہی کہنے کو ہیں
لب سرخ اس کے وہ گل برگ ترچھپیں جن میں دنداں کے سلک گہر
تبسم میں اپنے وہ برق بہاردم حرف ہوتے گئے آبدار
دہن غنچۂ ناشگفتہ سے کمسخن رہرو راہ تنگ عدم
تبسم ٹک اک گر وہ دلکش کرےتو گلشن میں گل صد چمن غش کرے
نہ دیکھا کسی نے جو تن اس کا صافنظر گر نہ ٹھہرے تو کیجے معاف
کمر اس کی ممکن نہیں ہاتھ آئےمگر صاحب دست غیب اس کو پائے
نہ رنگ صفا ہی فقط تن پہ تھاکہ مینا کا خون اس کی گردن پہ تھا
کیا ان نے پامال فتنوں کا خوںحنا اس کے ہاتھوں میں کتنوں کا خوں
ادا اس کی عاشق کے جی کی بلانہ میری تمھاری سبھی کی بلا
اگر جلوہ گر ہو وہ محشر خرامتو معلوم ہے پھر جہاں کا قیام
خراماں خراماں جدھر آگئیقیامت ہی گویا ادھر آگئی
اسے لغزش پا مئے ناز سےوہ مست سر انداز انداز سے
نہ ہووے وہ دن جس میں ہووے نقابچلا جائے پردے ہی میں آفتاب
اسی بت کا ہر اک تئیں ذکر ہےخدا کو خدائی کا اب فکر ہے
چڑھاوے اگر ہاتھ سے آستیںتو پھر دست موسیٰ بھی کچھ ہے نہیں
ہوئیں طرح اس سے جفاکاریاںنکالی ہیں ان نے دل آزاریاں
ترحم کو پاؤں تلے وہ ملےستم اس کے کوچے سے بچ کر چلے
جو آمد ہو اس کی نصیب چمنکرے ترک گل عندلیب چمن
گلی اس کی فردوس کا تھی شرفبہشت اک گنہگار سی اک طرف
زمیں اس کی یک دست گلزار تھینسیم چمن واں گرفتار تھی
گلی اس کی وہ قتل گاہ عجیبشہادت وہاں خضر کو ہو نصیب
وہی جاے باش دل عاشقاںاسی پر معاش دل عاشقاں
صبا گر اڑا دے تنک واں کی خاکتو نکلے زمیں سے دل چاک چاک
کئی نعرہ کش واں کئی نعرہ زنکئی خوں گرفتہ کئی بے کفن
کئی بے وطن واں سفر کر گئےسسکتے ہیں کتنے کئی مر گئے
ہر اک جان ہر شخص ناکام کیہوادار اس کے لب بام کی
پھروں گرد ساقی نشے میں ترےگلابی ہی منھ کو لگادے مرے
مجھے مست آب سیہ دے کے کرچلوں جوں قلم پھر میں مطلب اپر
سنا وہ جگرسوز پیغام جبکیے آشنا حرف سے لعل لب
پڑھی اک رباعی نہ کر اعتناکہ مضمون جس کا یہ موزوں ہوا
کہ ہجراں میں جو بے قراری کرےسر راہ فریاد و زاری کرے
نہ سونے دے نالوں سے ہمسایہ کوبھلی مرگ ایسے فرومایہ کو
محبت کی رہ میں یہ پہلا ہے کامکہ سر سے گذر جائیے شاد کام
نہیں شرط الفت میں چین جبیںاگر پیش آوے دم واپسیں
جو پھوٹا ہی پڑتا ہو جوں آبلہوہ ہے دم میں واماندۂ قافلہ
نہ جو ہوسکے ہجر کا پائمالتو بہتر ہے ہونا ہی اس کا وصال
گیا میں جواب اس سے لے کر ادھرسر رہ تھا پامال غم وہ جدھر
حقیقت بیاں کی سب اس جاے کیجواں نے یہ سنتے ہی اک ہائے کی
گئی ساتھ اس ہائے کے اس کی جاںگرا خاک پر ہوکے بے دم جواں
تکے تھا مگر رہ سفر کر گیاکہ اک بات کی بات میں مر گیا
نہ دیر اس کو ہوتے ہوئے جی سے سیرمجھے بات کے کہتے لاگی بھی دیر
مری بات میں خون بلبل ہوادیا سا وہ جلتا جو تھا گل ہوا
میں یہ واقعہ دیکھ گھبرا گیاکہ یوں یہ گل تازہ مرجھا گیا
نہ سوجھا مجھے اور کچھ اس سواکہ کریے بیاں طرف ثانی سے جا
ملامت کروں اس کو میں یک جہاںکہ اے بے حقیقت گئی اس کی جاں
ترے ناز بیجا کا تو کیا گیاپر اک بے گنہ اس میں مارا گیا
رہی گھر میں خوبی پہ تجھ کو نظرسر رہ گیا ایک جی سے گذر
ہے اب مشت خاک اس کی ذلت کا بابترے آستاں بن ہے مٹی خراب
یہ ٹھہرا میں اودھر روانہ ہواادھر مرنا اس کا فسانہ ہوا
پلا ساقی ماہ وش ایک جامگیا کاستن ہی میں ماہ تمام
کہاں ہے وہ خون کبوتر سی مےکہ پی کر فغاں کیجیے مثل نے
غرض جوں توں کر قطع میں راہ کیگیا تھی جہاں منزل اس ماہ کی
کی آواز دستک کہ بار دگرہوئی گھر میں القصہ میری خبر
در خانہ پر آئی اک پیر زنلگی کرنے عشق جواں سے سخن
کہ کیوں دوسری بار آیا ہے توشگوفہ مگر اور لایا ہے تو
کوئی رہ گیا تھا پیام جواںجو تو پھر شتابی سے آیا یہاں
بیاں کر جو کہنا ہو تجھ کو شتابکہ ہے منتظر غیرت آفتاب
کہا میں نے اے پیر زن کیا کہوںعزادار اس نوجواں کا میں ہوں
پیام اس کا لایا تھا میں اس لیےکہ وہ بے اجل مرتا ہے ٹک جیے
سو یاں سے گیا لے کر ایسا جوابکہ جس سے نکلتا تھا ناز و عتاب
نہ تھی تاب حرف درشت اس کے تیںکیا غم نے تھا نیم کشت اس کے تیں
نہ مشغول یوں ہی وہ زاری سے تھاوہ بے تاب بے اختیاری سے تھا
نہ سمجھی یہ رشک پری اس کے تیںدکھائی دی عشوہ گری اس کے تیں
چڑھا ان نے تیوری اک انداز سےکہا بے مزہ ہو کے یوں ناز سے
کہ جس کو نہ ہو تاب لانے کی تابشتابی سے مرنا ہے اس کا صواب
ہوا سامنے اس کے میں حرف زنیہ اس کی زباں سے کہا میں سخن
جواں سنتے ہی کرکے ایدھر نگاہسفر کر گیا جان سے بھر کر آہ
یہی ماجرا کہنے آیا ہوں یاںخبر اس کے مرنے کی لایا ہوں یاں
کہہ اس سے کہ اے کشتۂ غم کی جاںگیا آخرالامر جی سے جواں
یہ کہہ دس قدم واں سے میں تھا چلاکہ اک شور کانوں میں میرے پڑا
گذرنے لگی دل سے آواز آہلگا ہونے آنکھوں میں عالم سیاہ
صدا ایک نوحے کی آنے لگیکہ یعنی وہ دختر ٹھکانے لگی
محبت نے کام اپنا پورا کیاکہ ان دونوں لعلوں کو چورا کیا
فقیر آن کر سخت نادم ہواکہ میرے سبب دونوں کا جی گیا
یہ بھی جاے گریہ ہے ساقی سناکہ بدلے گزک کے ہے یاں دل بھنا
تھوڑی دارو دے سایۂ تاک میںبہ رنگ گل اب لوٹیے خاک میں
مقولۂ شاعر
عجب کی نہیں جا نہ کھا پیچ و تابیہ اے میرؔ ہے عشق خانہ خراب
سنا ہے کہ فرہاد پر کیا ہواپھر اس عشق نے شیریں سے کیا کیا
عزا کا ہے مجنوں کی نوحہ پڑاسیہ خیمہ لیلیٰ کا بھی ہے کھڑا
گئی جان وامق کی کس رنگ سےہوا چاک عذرا کا سر سنگ سے
گئی آہ نل کی فلک سے ادھردمن ہے بگولہ زمیں کے اپر
بہت عشق کی آگ میں جل گئےبہت اٹھتے جاتے ہیں شعلے نئے
گئی جل کے آخر پتنگوں کی جاںچراغوں سے اک دود دل ہے کشاں
ہے بے تاب ذرہ اسی سے کبابجلے ہے اسی آگ میں آفتاب
دل اس داغ سے مہ کا بھنتا ہی ہےکتاں کا جگر چاک سنتا ہی ہے
سیہ رنگ اگتا ہے سرو سہیوہی رنگ قمری ہے خاکستری
بھنور کے بھی جی پر پڑے گل کئیکنول کی کھلی آنکھ پھر مند گئی
کوئی نالہ بلبل سے ہے یادگارخزاں اس چمن میں ہے گل کی بہار
کہیں ساقی دے آب گل رنگ کوکشادہ بھی کر اس دل تنگ کو
گلے لگ کے مینا کے ٹک رویئےفسانہ بھی آخر ہے اب سویئے
۴۷۰ / ۵۸۲