ایمان یہ کیسا تھا کیسی یہ مسلمانی
لاشوں کی طرف ہوکر نکلے جو اساریٰ سبخون جگر آنکھوں میں فریاد تھی زیر لبکرتی ہے نظر یک سو تو دیکھے ہے کیا زینبہے بھائی کے پیکر کو اس خاک میں غلطانی
About this couplet
This is couplet 11 of 21 in “ایمان یہ کیسا تھا کیسی یہ مسلمانی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۱ / ۲۱