کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

ایمان یہ کیسا تھا کیسی یہ مسلمانی

۱

ایمان یہ کیسا تھا کیسی یہ مسلمانیکی آل پیمبر سے جو دشمنی جانیبے آبی میں کشتی تھی شبیر کی طوفانیدریا کے کنارے پر اس کو نہ ملا پانی

۲

کیا گوہر تر لا کر کس گھاٹ اتارا ہےلب خشک جگر ٹکڑے بے یاور و یارا ہےسب خویش و پسر بھائی ایک ایک کو مارا ہےہے قہر نہ پانی پر یہ پیاس کی طغیانی

۳

انواع ستم گذرے بہتوں کو جواں ماراجو جاکے گھرا تنہا میداں میں عیاں ماراانصار کو یاں مارا اعوان کو واں ماراعباس کی بے جانی اصغر کی وہ نادانی

۴

بازو نہ رہا کوئی اس درد کا کیا چارہکیا لطف ہے جینے کا کنبہ مرے جب ساراپھر دیدہ و دانستہ اپنے ہی تئیں ماراسب شہر بیابانی گھر بار کی ویرانی

۵

یہ حشر میں احمد کو منھ کیونکے دکھائیں گےکیا سامنے حیدر کے رولے کے پھر آئیں گےدیکھیں گے جو زہرا کو کیا بات بنائیں گےاے واہ ری دیں داری اللہ ری خداخوانی

۶

کیا شام کے لوگوں نے فتنے کو جگایا ہےاولاد کو حیدر کی سب جن نے سلایا ہےیہ جور یہودوں سے کس دور میں آیا ہےاس طور سے پیش آئے کب کفری و نصرانی

۷

آنکھیں جو مندیں شہ کی آشوب سا اک آیااسباب گیا سارا خیمے کو جلا پایاعریاں سر و بے چادر نسواں نہ جنھیں سایہاس جمع میں یک باری کیا آئی پریشانی

۸

غارت ہوا ناگاہے اسباب امیرانہمردم حرم شہ کے نکلے ہو فقیرانہعابد کے تئیں لائے میداں میں اسیرانہوہ یوسف ثانی تھا جیسے کہ ہو زندانی

۹

دل سینے میں صد پارہ بے طاقت و بے چارہناموس بیاباں میں یک شہر تھے آوارہسر باپ کا نیزے پر کرتا تھا جو نظارہچاہے تھا کہ ناخن سے نوچوں سر و پیشانی

۱۰

پر دست نہ تھا اس کو تھے ہاتھ رسن بستہرہ جاتا تھا سر دھن کر ناکام جگرخستہکہتا تھا پدر مر کر تو تو ہوا وارستہمجھ قیدی کی مشکل کی آساں نہیں آسانی

۱۱

لاشوں کی طرف ہوکر نکلے جو اساریٰ سبخون جگر آنکھوں میں فریاد تھی زیر لبکرتی ہے نظر یک سو تو دیکھے ہے کیا زینبہے بھائی کے پیکر کو اس خاک میں غلطانی

۱۲

گر خاک میں چلائی کیا جرم ہوا بھائیجو سر کو کٹا تونے ہموار کی تنہائیکر سیر چمن اپنا آفت عجب اک آئیکیا باد خزاں نے کی جنگل میں گل افشانی

۱۳

نو رستہ نہال اس کے یک دست چھٹے ہیں گےاشجار سر و بن سے دیکھو تو کٹے ہیں گےگل پھولے چڑھے چڑھ کر ماٹی میں اٹے ہیں گےاس رنگ کی دیکھی ہے خاموشی و حیرانی

۱۴

یاں آن کے جانا تھا ہوگی تری عزت بھیحیدر کا خلف ہے تو ہے تجھ کو امامت بھیخاطر کریں گے تیری بھیجیں گے اقامت بھیسو قوم سیہ دل نے کیا خوب کی مہمانی

۱۵

کیوں تاج شہی تیرا ہے خاک برابر یوںکیوں مارے گئے تیرے سب خویش و برادر یوںکیوں سرکے تئیں رکھا لے نیزے کے اوپر یوںبرباد کیا بارے کیوں تخت سلیمانی

۱۶

پرگرد بیاباں میں آوارہ ہوئے ازبسبے چارہ و بے وارث بے جا و مکاں بیکسجا بیٹھیں کہیں چھپ کر اپنا جو چلے کچھ بسکیا دیکھی ہے رسوائی کیا خاک ہے یاں چھانی

۱۷

احمد نہیں ہے جس کو یہ حال دکھاویں ہمحیدر نہیں جس پاس اب روتے ہوئے جاویں ہمعباس نہیں جس کو اس وقت بلاویں ہمتو تھا سو مٹا تیرا ہنگامۂ سلطانی

۱۸

ہے زندگی کچھ یہ بھی تھی موت بھلی اس سےسر کب تئیں یوں ماریں فریاد کریں کس سےاکبر کہ توقع تھی ہم سب کے تئیں جس سےبے وقت گیا مارا سو وہ نبی ثانی

۱۹

قاسم کی طرف گاہے پڑتی تھی نظر جاکراس مخمصے میں شاید امداد کرے آکرسر دے گیا سو آگے تہ بات کی کچھ پاکرعشرت نہ جوانی کی اس دل زدہ نے جانی

۲۰

ہم شام کو جاتے ہیں فرصت نہیں ہے ہم کوبے طاقتی سے مطلق طاقت نہیں ہے ہم کوتاکید سے چلنے کی مہلت نہیں ہے ہم کوآنکھوں سے کریں ورنہ سب تیری نگہبانی

۲۱

یہ کہہ کے گئے آگے روتے ہوئے غم دیدہاب تو بھی قلم رکھ دے اے میرؔ ستم دیدہبس گریہ سے خامے کے کاغذ تو ہے نم دیدہدیوانگی کر اس جا یھاں عقل ہے دیوانی

۴۷۲ / ۵۸۲