نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوست

سنی ہے مرگ ایسی بھی بہت کمرکے جاتے ہیں جی ہر لحظہ ہر دمکہیں کیا با ہزار افسوس و غم ہمکہا کرتے ہیں اب ہے دوست ہے دوست

About this couplet

This is couplet 12 of 16 in “⁨نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوست⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۲ / ۱۶