کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوست

۱

نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوستنہ چھوڑا پیچھے جیتا کوئی اے دوسترہیں نالاں نہ کیونکر مثل نے دوستستم گذرا غضب ہے دوست ہے دوست

۲

کہاں آیا تو اپنے پاؤں چل کرجہاں سر یوں دیا آخر کو جل کرکہیں سو کیا کہیں اب ہاتھ مل کریہی کہتے ہیں سب ہے دوست ہے دوست

۳

ہوئے درپے سبھی ناموس و جاں کےتھے اسلامی ترے دشمن کہاں کےبکھر جاتے ہیں جی پیر و جواں کےکہیں ہیں لڑکے جب ہے دوست ہے دوست

۴

فلک کی چال کینے کی نہ سمجھاہوا پامال تو نقش قدم ساگیا سر کیوں کبھو تونے تو اس جانہ رکھا پا کڈھب ہے دوست ہے دوست

۵

وطن سب کا عرب مدت کا باساامام دیں محمدؐ کا نواساموا آنکھوں کے آگے سب کے پیاساعجب بل صد عجب ہے دوست ہے دوست

۶

جنھوں سے تھی امید مہربانیدریغ ان سب نے رکھا تجھ سے پانیہوئی دریا پہ مشکل زندگانیموا تو تشنہ لب ہے دوست ہے دوست

۷

ہوئی نانا کی امت دشمن جاںرہا تو دیر خاک و خوں میں غلطاںرہی دیں داری و اسلام و ایماںنہ عزت نے ادب ہے دوست ہے دوست

۸

سبب ہو تو کہے کوئی موالیکہاں کی دشمنی تجھ سے نکالینہیں مرنا ترا حسرت سے خالیگیا جی بے سبب ہے دوست ہے دوست

۹

بھتیجے بھائی بیٹے تیرے پیارےگئے ناچار ہوکر جی سے مارےترے حصے میں کیا آئے تھے سارےغم و رنج و تعب ہے دوست ہے دوست

۱۰

اٹھائے تونے کیا کیا رنج و محنتگیا لے یاں سے کیسی کیسی حسرتیہ گر ایام پر پڑتی مصیبتتو دن ہوجاتے شب ہے دوست ہے دوست

۱۱

وطن سے ہائے کر کر رہ گرائیمصیبت دیکھی یا ایذا اٹھائیگیا جی سے ولے تونے نہ پائیزمیں بھی یک وجب ہے دوست ہے دوست

۱۲

سنی ہے مرگ ایسی بھی بہت کمرکے جاتے ہیں جی ہر لحظہ ہر دمکہیں کیا با ہزار افسوس و غم ہمکہا کرتے ہیں اب ہے دوست ہے دوست

۱۳

غیور ایسا نہ کوئی ہم نے پایاجگر حسرت نے پانی کر دکھایاموا لب خشک پر لب پر نہ لایاکبھو حرف طلب ہے دوست ہے دوست

۱۴

ترے اندوہ کہنے میں نہ آئےکڑوڑوں لاکھوں غم جی میں سمائےیہی افسوس کر سب کہنے پائےعجم سے تا عرب ہے دوست ہے دوست

۱۵

ترے ماتم کے جب پڑتے ہیں اسبابنہیں رہتی جیوں میں مطلقاً تابجگر پھٹتے ہیں کس حسرت سے احبابکہیں ہیں زیر لب ہے دوست ہے دوست

۱۶

کہوں یہ واقعہ آگے تو غم ہودلوں کو میرؔ صدگونہ الم ہوموا جس طرح وہ ثابت قدم ہومرے یوں کوئی کب ہے دوست ہے دوست

۵۶۹ / ۵۸۲