نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوست
ترے ماتم کے جب پڑتے ہیں اسبابنہیں رہتی جیوں میں مطلقاً تابجگر پھٹتے ہیں کس حسرت سے احبابکہیں ہیں زیر لب ہے دوست ہے دوست
About this couplet
This is couplet 15 of 16 in “نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوست” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۵ / ۱۶