نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوست
کہاں آیا تو اپنے پاؤں چل کرجہاں سر یوں دیا آخر کو جل کرکہیں سو کیا کہیں اب ہاتھ مل کریہی کہتے ہیں سب ہے دوست ہے دوست
About this couplet
This is couplet 2 of 16 in “نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوست” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۲ / ۱۶