چاروں طرف ہے شور و فغاں وامصیبتا
بیٹا جو اک رہا ہے بہت ناتواں ہے وہکرتا تو ہے نمود سی لیکن کہاں ہے وہدبلے پنے سے جسم کے اپنے بجاں ہے وہتس پر کہیں ہیں چل تو دواں وامصیبتا
About this couplet
This is couplet 14 of 21 in “چاروں طرف ہے شور و فغاں وامصیبتا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۴ / ۲۱