کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
چاروں طرف ہے شور و فغاں وامصیبتا
چاروں طرف ہے شور و فغاں وامصیبتاماتم کدہ ہوا ہے جہاں وامصیبتامردوں کی جنس سینہ زناں وامصیبتانسواں تمام مویہ کناں وامصیبتا
کیا واردات ہے کہ عزا چاروں اور ہےکیا سانحہ ہوا ہے کہ عالم میں شور ہےکیسا ہے غم کہ سینہ زنی سب میں زور ہےناخن کے چہروں پر ہیں نشاں وامصیبتا
دیکھے ہیں تار و تیرہ زمان و زمن کے تیںشہری گئے ہیں نعرہ زناں سارے بن کے تیںمردوں کے ہاتھ پہنچے ہیں جیب و کفن کے تیںزندہ ہوئے ہیں جامہ دراں وامصیبتا
اندھیر شامیوں کے ستم سے بڑا ہواسر ہے سناں پہ شاہ کا تن ہے پڑا ہواخورشید ایک نیزے پر آکر کھڑا ہوامحشر ہوئی جہاں میں عیاں وامصیبتا
کیا دل میں حسرتیں لیے یاں سے گیا امامقاسم کا کام کیونکے ہوا دفعتہ تمامکس منھ سے کوئی اصغر ناداں کا لیوے ناماکبر گیا ہے کیسا جواں وامصیبتا
ناگاہ اس چمن میں چلی ایسی باد سختجڑ پیڑ سے اکھاڑ دیے جن نے سب درختنوباوگاں نے بار کیا ہے سفر کا رختغنچہ ہوئے گلوں کے دہاں وامصیبتا
آکر وطن سے ابن علی جان سے گیااہل حرم پھرے ہیں بیاباں میں بے رداعابد چلا ہے ہاتھ بندھے وا محمداؐزینب ہے سر پہ خاک فشاں وامصیبتا
بے چارے ہیں غریب ہیں بے خانماں ہیں سببے وارث اور بیکس و بے مہرباں ہیں سبہر گام گرم نالہ و آہ و فغاں ہیں سبنے گھر نہ در نہ جا نہ مکاں وامصیبتا
مرتے حسین کے وہ زمانہ نہیں رہاجو ہے سو مدعی ہے یگانہ نہیں رہاناموس احمدی کو ٹھکانا نہیں رہافریاد لے کے جائیں کہاں وامصیبتا
بے سر پڑے ہیں حدنظر تک تمام تنکھینچے ہیں خاک و خوں میں جوانوں کے پیرہنسب خارزار ریختن خوں سے ہے چمنکچھ اور ہوگیا ہے سماں وامصیبتا
زہرا نے دودھ جس کے تئیں مہر سے دیاحیدر نے جس کو سر پہ رکھا جب تلک جیاآغوش میں نبیؐ نے جسے پرورش کیاسر اس کا اور نوک سناں وامصیبتا
جس کے لیے سپہر رہا برسوں چرخ زنجس کے سبب نمود میں آیا زمیں زمنسو سر کہیں نواسے کا اس کے کہیں بدنپھر خاک میں ہوا نہ نہاں وامصیبتا
بھائی بھتیجے آگئے تیغ ستم تلےخنجر رکھا گیا شہ مظلوم کے گلےہرچند سر ہے نیزے پہ خورشید سا ولےتاریک ہے زمین و زماں وامصیبتا
بیٹا جو اک رہا ہے بہت ناتواں ہے وہکرتا تو ہے نمود سی لیکن کہاں ہے وہدبلے پنے سے جسم کے اپنے بجاں ہے وہتس پر کہیں ہیں چل تو دواں وامصیبتا
ہاتھوں سے اس کے کچھ نہیں بن آتی کیا کرےناموس چھوڑ دشت میں کس طرح سے مرےجیتا رہے تو ضعف میں کیوں کر یہ دکھ بھرےگردن میں طوق ایک گراں وامصیبتا
کہتے ہیں اس پہ باپ کا منھ سے نہ نام لےباندھے ہیں ہاتھ دل کے تئیں تانہ تھام لےکس طرح اس سلوک کا وہ انتقام لےاس کو نہ زور کچھ نہ تواں وامصیبتا
دیکھے ہے ماں بہن کو تو روتا ہے زار زاررسی سے ہاتھ دونوں بندھے کف میں اک مہارگرد یتیمی منھ پہ جگر بے پدر فگارناچار ساتھ سب کے رواں وامصیبتا
اس واقعے سے بانو پہ سختی کمال ہےیہ ظلم یہ ستم یہ خرابی حال ہےلب پر ہزار رنگ گلے لیک لال ہےگویا نہیں ہے منھ میں زباں وامصیبتا
اس ایک کے لبوں پہ شکایت ہے خونچکاںاس دوسری کے نوحے سے پرشور ہے جہاںالقصہ بے حسین قیامت ہے درمیاںکیا کیا کریں ہیں بہنیں بیاں وامصیبتا
بیٹی یہی کہے ہے کہ بابا کب آئے گاکب کا گیا ہے کب تئیں تشریف لائے گاشاید یہ حرف جان ہی کے ساتھ جائے گاکڑھنے سے اس کے ہے یہ عیاں وامصیبتا
وحشی ہی فرط غم سے نہیں دشت میں اداسجاتے نہیں طیور بھی میرؔ آشیاں کے پاسکیا مرد و زن ہر ایک کے مفقود ہیں حواسماتم زدہ ہیں خرد و کلاں وامصیبتا
۵۷۰ / ۵۸۲