وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہن

غم شریک آج پدر ہے نہ کوئی بھائی ہےسو طرح کی ہے جفا اور یہ تنہائی ہےسر پہ کیا جانیے کیوں ایسی بلا آئی ہےپاؤں تو کج ہے مرا یاں نہیں زنہار بہن

About this couplet

This is couplet 18 of 28 in “⁨وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہن⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۸ / ۲۸