کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہن
وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہنبولے شہ رو نہ بس اب اے مری غم خوار بہنکیا کروں جان کے دینے میں ہوں ناچار بہناب رہا روز قیامت ہی پہ دیدار بہن
جن عزیزوں نے مرے ساتھ کیا تھا اک جوگدیکھتے دیکھتے ہی چل بسے سارے وے لوگلطف اس جینے کا کچھ ہے کہ رکھا کریے سوگہوجے کس کس کے لیے آہ عزادار بہن
ساتھ والا نہ کوئی ہووے رہوں میں صد حیفبن حریفوں کے یہ خم خانہ ہے سارا بے کیفپھر جو بازو تھے وے سب ہیں علف خنجر و سیفقاسم اکبر کے تئیں کھا گئی تلوار بہن
ساتھ جو ایسا ہو تیار تو رہتا ہے کوئیواسطے جائے یہ پھر جور بھی سہتا ہے کوئیاس جگہ جز سخن مرگ بھی کہتا ہے کوئیہو تنک تو ہی مری منصف گفتار بہن
ہاتھ سے بیٹوں بھتیجوں کو نہ یوں دے جاتابیکسانہ رفقا کے نہ گلے کٹواتاکس و کو ساتھ لیے کاہے کو یاں میں آتاعلم اگر ہوتا کہ یہ دشت ہے خوں خوار بہن
آتش غم سے درونہ ہی نہیں جلتا ہےدل بھی سینے میں مرے جیسے کوئی ملتا ہےگھر کے ویرانے کی کچھ شرح میں لب ہلتا ہےورنہ حیرت نے کیا ہے مجھے دیوار بہن
حیف وہ جن کنھوں نے ساتھ نہ یاروں کا کیاپھر وہ ہے ہے کہ اکیلا برے احوال جیاپاس ان کا ہے ضروری جنھوں نے جان دیادور ان سے ہے مجھے زندگی دشوار بہن
ہر دم ایک آگ نئی جلتی ہے میں بھنتا ہوںناکسی اپنی نظر کرتا ہوں سر دھنتا ہوںمنھ پہ کیا کیا مرے وے کہتے ہیں میں سنتا ہوںہم زبانی سے جنھوں کی تھی مجھے عار بہن
بالش ناز سے جس کے تئیں لگتا تھا ننگاب اسی سر کے تئیں پاتے ہیں شائستۂ سنگپھول رہتے تھے بھرے جس میں ہمیشہ صد رنگاسی دامن سے گتھے رہتے ہیں اب خار بہن
ہائے یہ وقت نہیں طاقت دل کھونے کاکڑھیو تب جب تجھے غم ہو نہ مرے ہونے کاابھی کیا رووے ہے آگے ہے سماں رونے کایاد آؤں گا بہت میں جگرافگار بہن
خاک میں اپنے جگرپارے پڑے پاتا ہوںرنگ صحبت سے کھڑا خون جگر کھاتا ہوںجی میں جو کچھ ہے سوجی ہی میں لیے جاتا ہوںوقت ہے تنگ مناسب نہیں اظہار بہن
خوش نہ اس خستگی حال سے گڑتا پوتااپنے دل کے لہو سے خاک بھرا منھ دھوتاآج کے دن جو سلامت مرے سر پر ہوتادیکھتا یوں نہ مجھے حیدر کرار بہن
آشنا کون کہوں جس سے یہ حال مستورعقل سے دور ہے مرنے کے قریب اب مذکوردرد دل اپنا سناتا اسے سب میں مجبورہوتا دنیا میں اگر احمد مختار بہن
چشم انصاف کہاں جس سے نظر آوے حالکس کے اس طرح ہوئے خویش و برادر پامالتو ہی مجھ ظلم رسیدہ سے ہو سرگرم مقالابھی اکبر تھا بھلا خوں کا سزاوار بہن
جور کے تیر کا اصغر کا گلا تھا قابلقاسم ایسا تھا کہ مارا پڑے ہوکر گھائلمیں ہوں ایسا کہ مرے درپئے خوں ہوں جاہلعالم الغیب ہی جانے ہے یہ اسرار بہن
میں تو جانا تھا کہ یہ قوم تشہدگو ہےاور احمد کا تمناے دل و جاں تو ہےیہ نہ جانا کہ ہر اک تیرہ دروں بدخو ہےجی سے ماریں گے مجھے کرکے گرفتار بہن
آنکھ ان لوگوں کی آتی ہے نظر مجھ کو بریدیکھیو سر کے تئیں کاٹیں گے لے لے کے چھریپھر بھی تو ان کے دلوں سے نہیں جانے کی پریسر کٹے پر بھی رکھیں گے یہ سروکار بہن
غم شریک آج پدر ہے نہ کوئی بھائی ہےسو طرح کی ہے جفا اور یہ تنہائی ہےسر پہ کیا جانیے کیوں ایسی بلا آئی ہےپاؤں تو کج ہے مرا یاں نہیں زنہار بہن
مجھ کو جائے ہی بنے گرچہ نہیں ہے دل خواہسر کٹے ساتھ کے جتنے ہیں کھڑے ہیں سر راہدل غم دیدہ میں کیا کیا ہے مرے کیونکر آہفرصت کم میں کہوں یہ غم بسیار بہن
ہاتھ سے تم بھی سر رشتۂ تسکیں کو نہ دوسخت کر جی کے تئیں بیٹھو نہ روؤ نہ کڑھوہوسکے تو دل سجاد کو اب ہاتھ میں لوچھوڑتا ہوں میں اسے بیکس و بیمار بہن
ایک تو تپ اسے رہتی ہی نہایت ہے حقیردوسرے جاتے رہے جان سے سب خرد و پیرتیسرے مرگ پدر سخت کرے گی دل گیرمار ہی ڈالے ہے آزار پر آزار بہن
وقت نزدیک ہے اب جیسے مرے جانے کایہی صورت ہے تو میں منھ نہیں دکھلانے کاقابو بنتا ہے کہاں یاں تئیں پھر آنے کاہیں سب اسباب مرے مرنے کے تیار بہن
جس گھڑی تن سے مری جان جدا ہووے گیدن کی ہوجاوے گی شب تیرہ ہوا ہووے گیدرہمی برہمی سے حشر بپا ہووے گیاس قیامت میں سکینہ سے خبردار بہن
ہے وہ ناداں نہ کہیں خوف اثر کر جاوےدیکھ کر گھر کے تئیں لٹتے ہوئے ڈر جاوےیا مجھے یاد کرے سر کو پٹک مرجاوےکرتی رہیو مرے پیچھے اسے ٹک پیار بہن
شہربانو کو نہ ٹک پاس سے ہلنے دیجوفرط اندوہ سے دل اس کا سمھلنے دیجوغم کی ماری کو نہ جنگل میں نکلنے دیجواس کے سب اہل جنوں کے سے ہیں اطوار بہن
مجھ سے دل بستگی رکھتی ہے وہ شومردہ بہتکم جو آتا ہوں تو ہو جاتی ہے افسردہ بہتسن کے مرنے کو مرے ہوگی دل آزردہ بہتپونچھیو اس کے بہت دیدۂ خونبار بہن
یہ سخن بھائی نے کہہ منھ جو کیا اودھر کوسر سے زینب نے اٹھا پھینک دیا معجر کودیکھتی تھی کبھی بھائی کو کبھی گھر در کوچھپ گیا آنکھ سے جب رہ گئی من مار بہن
کیا کہوں میرؔ سنا جن نے جگر اس کا جلاجب وہ نومید ہو یوں کہنے لگی تاب نہ لاتو جو اک بار اٹھا یاں سے تو مرنے ہی چلااب پکارے گی اخی کہہ کسے ہر بار بہن
۵۷۱ / ۵۸۲