وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہن
ایک تو تپ اسے رہتی ہی نہایت ہے حقیردوسرے جاتے رہے جان سے سب خرد و پیرتیسرے مرگ پدر سخت کرے گی دل گیرمار ہی ڈالے ہے آزار پر آزار بہن
About this couplet
This is couplet 21 of 28 in “وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہن” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۲۱ / ۲۸