وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہن
آتش غم سے درونہ ہی نہیں جلتا ہےدل بھی سینے میں مرے جیسے کوئی ملتا ہےگھر کے ویرانے کی کچھ شرح میں لب ہلتا ہےورنہ حیرت نے کیا ہے مجھے دیوار بہن
About this couplet
This is couplet 6 of 28 in “وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہن” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۶ / ۲۸