وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہن

بالش ناز سے جس کے تئیں لگتا تھا ننگاب اسی سر کے تئیں پاتے ہیں شائستۂ سنگپھول رہتے تھے بھرے جس میں ہمیشہ صد رنگاسی دامن سے گتھے رہتے ہیں اب خار بہن

About this couplet

This is couplet 9 of 28 in “⁨وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہن⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۹ / ۲۸