کہانی رات تھی آل نبی کی
لگے آزار پر پہنچانے آزارلے آئے بیچ میں بیعت کی گفتارکھنچی پرخاش کو آخر یہ تکرارنہ اک گمرہ نے اس کی ہمرہی کی
About this couplet
This is couplet 11 of 28 in “کہانی رات تھی آل نبی کی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۱ / ۲۸