کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

کہانی رات تھی آل نبی کی

۱

کہانی رات تھی آل نبی کیمراد جان زہرا دل جلی کیمصیبت دیدگی ابن علی کیگئی سن نیند یک باری سبھی کی

۲

پدر شاہ ولا اور اس کا نانامحمدؐ جس کو دو عالم نے جانافلک نے خاک کو یک عمر چھاناتب اس محبوب نے جلوہ گری کی

۳

کہ اک تھا بادشا مغرب زمیں میںعلم تھا اہل ایمان و یقیں میںامامت تھی اسے احمدؐ کے دیں میںدر اس کا سجدہ گہ تھی ہر ولی کی

۴

تمامی جود تھا سب دست ہمتسراپا دل ہمہ تن تھا مروتسراسر جرأت و یک لخت غیرتدیا سر پر نہ ان نے آشتی کی

۵

مزاج اس کا نہایت ہی کڑا تھاسر رہ طور پر اپنے کھڑا تھاگذار کارواں اپنا پڑا تھانگہ ان نے ادھر اک سرسری کی

۶

خیال اس کو کیا ہر اک نے مفترکہا سب نے اسے خود راے خود سرگلہ سن کر کیا ان نے سخن سرکہ رسم اپنی نہیں کبر و منی کی

۷

نہ اس کو کبر سمجھو کبریا ہےہمیں یہ مرتبہ حق نے دیا ہےتکبر ترک ہم سب نے کیا ہےرہ و رسم اپنے ہاں ہے بیکسی کی

۸

جو ہوں پامال تو ہم دم نہ ماریںہمارے جسم ہیں گویا مزاریںہم اپنی قدر کو کیوں کر بساریںکہ ہے خاک اصل طینت آدمی کی

۹

ولے وہ مالک ملک حقیقترہا تھا بیٹھ کر ترک خلافتاباً جداً جنھوں نے کی خصومتانھوں نے ابتدا پھر بے تہی کی

۱۰

یہ شہ تھا کم سپہ ساتھ ان کے لشکریہ بیکس اور وہ مغرور و مفترادھر اسباب ظاہر جمع یکسرفقط اک اس کنے ہمت شہی کی

۱۱

لگے آزار پر پہنچانے آزارلے آئے بیچ میں بیعت کی گفتارکھنچی پرخاش کو آخر یہ تکرارنہ اک گمرہ نے اس کی ہمرہی کی

۱۲

غم و رنج و الم جب دیکھے وافرکہا مجھ کو نہ دیں گے چین کافرہوا آخر مدینہ سے مسافربراے خواہش دل مدعی کی

۱۳

کہ یاں جاتا نہ تھا اس کا ستم پیشتدارک بھی ہوا جاتا تھا کم بیشاگرچہ مرگ حیدر سے تھا دل ریشحسن کے غم نے کیا کم کوتہی کی

۱۴

وطن مالوف کو القصہ چھوڑانبیؐ کی گور سے ناچار توڑازمانے نے یکایک منھ کو موڑانہ یک دم آسماں نے ہمدمی کی

۱۵

چلا راضی رضاے مالک اوپرعمل کر کل شئی ہالک اوپرکہا پھر رہ میں جو ہو سالک اوپرخدا سے چشم رکھے یاوری کی

۱۶

پس از طیِّ منازل کوفہ آیابھروسا جس کا تھا خوب آزمایااسے دشمن سے بھی کچھ آگے پایامروت دیکھ لی سب اس دنی کی

۱۷

ہوا دشت بلا کو جب روانہپھرا حد سے زیادہ پھر زمانہملا اس کو وہاں پانی نہ دانہفلک نے اس کی مہمانی بڑی کی

۱۸

مخالف جوق جوق اودھر سے دھائےسنان و تیغ و خنجر لے کے آئےعزیزوں نے گلے اپنے کٹائےنہ پوچھو شامیوں نے جو بدی کی

۱۹

بھتیجے بھائی بیٹے سارے مارےجلائے آگ دے کر خیمے سارےموئے ناچار ہو اکثر بچارےبہت اوقات نے اس سے کمی کی

۲۰

ہوئے اکبر ہم اصغر دونوں بھائیگیا قاسم تھی جس کی کدخدائیمروت ظالموں سے بن نہ آئیتسلی بھی نہ ٹک آکر کبھی کی

۲۱

گلے اصغر کو بہتیرا لگایالیے خیمے تلک ہاتھوں میں آیاولے اس کو نہ جینے والا پایابہت دلجوئی کی اس رفتنی کی

۲۲

پھر اس مظلوم کو بھی مار ڈالاکیا سر معرکہ میں نیزہ بالانہ چھوڑا اک کفن کا دینے والارہا عابد سو اس سے کیا بھلی کی

۲۳

نکالا کانپتا اس ناتواں کوچلے لے شام لوٹے کارواں کوکیا غارت سب اسباب زناں کوہر اک واحد کی خوش بے چادری کی

۲۴

نکالیں عورتیں بے روئیاں کرنہ چھوڑا پردگی کے سر پہ معجربٹھائیں اشتروں پر تس کے اوپرقطار اونٹوں کی رستے پر کھڑی کی

۲۵

زمام اونٹوں کی لے کر ہاتھ میں دیمراعات اس کی بیماری کی یہ کیچلاچل کہتے کہتے جان بھی لیپدر مردہ کی کیا کیا دلبری کی

۲۶

وہ کہتا تھا پدر منھ تیں جو پھیراسبھوں نے مجھ کو کھینچا اور گھیرانہ نکلا آہ مرغ روح میراکہوں کس سے اس اپنی بے پری کی

۲۷

تمامی دار و دستہ کٹ کے مرناسر آگے باپ کا نیزے پہ دھرناحرم کے لوگ بے ناموس کرناوہی جانے یہ جن نے غم کشی کی

۲۸

بس اب سو میرؔ رکھ لے ٹک زباں کویہیں سے چھوڑ دے اس داستاں کورلاوے گا کہاں تک مردماں کونہیں طاقت رہی مژگاں تری کی

۵۷۵ / ۵۸۲