گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہ
تھے لوگ سب حرم کے جوں بید سربرہنہان میں سکینہ جیسے خورشید سر برہنہتھی شہر بانو یکسر نومید سربرہنہنوحے سے جس کے جنگل تھا زلزلے میں سارا
About this couplet
This is couplet 5 of 16 in “گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۵ / ۱۶