کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہ
گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہابن علی کو جن نے اس گھاٹ لا اتارادریا کے خاک سر پر جو کر رہا کنارہدنیا سے خشک لب یہ سید گیا ہمارا
کر بند سب کا پانی پھر آگ آ لگائیچھاتی مسافروں کی سو رنگ سے جلائیگھٹنے کی بات یاں کی کس مرتبہ بڑھائیکیا کیا ہوئی چڑھائی کیا کیا دیا اتارا
سید کے آنکھ مندتے کچھ اور تھا زمانہعابد رہا سو اس کو موجود ہی نہ جاناناموس احمدی کی عزت نہ کی نہ ماناگھر بار لوٹ سارا ان کو کیا اساریٰ
وارث یہی رہا تھا بے چارہ دل شکستہسو درمیاں کھڑا تھا ناچار دست بستہکیا وارثی کرے وہ دل چاک سینہ خستہیاری گر و نہ یاور جس کا نہ یار و یارا
تھے لوگ سب حرم کے جوں بید سربرہنہان میں سکینہ جیسے خورشید سر برہنہتھی شہر بانو یکسر نومید سربرہنہنوحے سے جس کے جنگل تھا زلزلے میں سارا
خاک سیاہ سے تھا قوم و قبیلہ یکساںمنھ نوچتی تھی زینب کلثوم موپریشاںقاسم کی ماں بچاری اس واقعے سے حیراںمرنا تھا زندگی پر ان سب کے تیں گوارا
کہتی تھی خوب دیکھی بیٹے کی کدخدائیکیا دھوم ہورہی تھی جس دم برات آئیکون آوے ہو براتی سب مر گئے تھے بھائییا دولھا آن اترا یا مرنے کو سدھارا
شادی رچی ہے ایسی کاہے کو کوئی آگےدولھا کے دست و پا میں لوہو کی مہندی لاگےبزم عروسی میں سے ہم روتے کڑھتے بھاگےنوشہ کا گھوڑا کہیے یا اس کے تیں کنوارا
اس جمع کا تھا ازبس احوال اضطراریتھی فرط درد و غم سے ہر اک کو بے قراریمنھ آسماں کی جانب کلثوم کر پکاریکاے چرخ ہم سبھوں کا کیا جل گیا ستارہ
شہ آفتاب جو تھا اس پر زوال آیاسر پر رہا نہ اس کے ختم رسلؐ کا سایہاکبر نے چاند سا منھ وو خاک میں چھپایااصغر تھا طفل ہالہ بے وقت اس کو مارا
ہے عابدیں جو باقی بیمار و ناتواں ہےدرپیش پھر سفر ہے ساتھ اس کے کارواں ہےدلجوئی سکینہ کیا ہوسکے عیاں ہےشور اک اٹھا جو ان نے بابا کے تیں پکارا
دادا کی اور منھ کر رویا یہ کہہ کے پوتاکاے جد پاک سایہ تیرا جو سر پہ ہوتاتو جان اپنی اکبر یوں رائیگاں نہ کھوتاہم پر ستم نہ ہوتا اس طرح آشکارا
کاہے کو یہ قیامت سر پر ہمارے ہوتیپھوپھی نہ سر کو اپنے یوں پیٹ پیٹ روتیروتی بلکتی پھرتی اس طور سے نہ پوتیغلطاں نہ خاک و خوں میں ہوتا حسین پیارا
شش ماہہ طفل اصغر ایسا ستم نہ سہتایہ سہل باتیں ہم کو ہر اک نہ منھ پہ کہتاجوش و خروش سے یوں دریاے خوں نہ بہتالوہو سے اقربا کے ہوتی نہ خاک گارا
اب یانصیب میں نے سر پر بلا اٹھائیمشکل گذار اس میں گو راہ پیش آئیکریے بیاں سو کس سے بابا رہا نہ بھائییا ہے نظر خدا پر یا آسرا تمھارا
اس طرز گفتگو کر چپکا ہوا وہ مغمومناگفتہ میرؔ بہتر آگے جو کچھ ہے معلومروتا چلا جو واں سے خاطرشکستہ مظلوماحوال دیکھ اس کا مشکل ہوا گذارا
۵۷۸ / ۵۸۲