ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیا
پوچھا کہ کیا ہے یہ تو کہا کیجیے نظرلکھ دے گیا تھا مجھ کو دم مرگ یہ پدرپڑھتے ہی اس کے خون ہوا غم سے سب جگرمغموم ہو کے فرق مبارک جھکا دیا
About this couplet
This is couplet 13 of 35 in “ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۳ / ۳۵