کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیا

۱

ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیاشیوہ ستم کا تیرہ دلوں کو سکھا دیاخیمہ انھوں نے ابن علی کا جلا دیاپردہ سا رہ گیا تھا کچھ اک سو اٹھا دیا

۲

کیا تونے آنکھیں موندلیں اے تیرے سر پہ خاکماں اس کی فاطمہ گئی عالم سے دردناکباپ اس کا بوتراب ہوا کوفے میں ہلاکبھائی حسن کو زہر پلا کر سلا دیا

۳

ہے نقش وہ جو کھینچ گیا ہے کدورتیںبیٹا بھتیجا دونوں تھے گویا کہ مورتیںتھیں آب و رنگ صفحۂ عالم وہ صورتیںسو بات کہتے تونے انھوں کو مٹا دیا

۴

آزار تیرے جور سے انواع پا گیایاقوت پارے خاک میں اپنے ملا گیاکیا کیا زیاں حسین جہاں میں اٹھا گیاناموس دی بہ باد جدا سر جدا دیا

۵

مرنا حسین کا ہے فلک یوں نہ جائے گاحلق بریدہ سے جو وہ عرصے میں آئے گاہر گام ایک تازہ قیامت اٹھائے گایہ وہ نہ ہو کہ خون کیا پھر دبا دیا

۶

آنکھوں میں اس کی ہو نہ جہاں کس طرح سیاہکیا سوجھے اس کو چہرے پہ کس کے کرے نگاہاکبر اندھیرے گھر کا اجالا تھا اس کے آہباد ستم نے تس کو دیا سا بجھا دیا

۷

اصغر کو خیمہ گاہ سے لایا تھا تشنہ کامسو کام ایک تیر میں اس کا ہوا تمامپانی کا پھر حسین نے ہرگز لیا نہ نامدیکھا کہ طفل شیر کو لوہو چٹا دیا

۸

ہمدم جو تھے حسین کے مارے گئے سبھییاری کی یاوری کی نہ مہلت کسو کو دیعباس جس سے بازو امامت کا تھا قویتیغ جفا سے بازو ہی اس کا کٹا دیا

۹

قاسم چراغ بھائی کا آیا بتنگ ہوکہنے لگا کہ میرے تئیں حکم جنگ ہوتاچند زندگانی وبال اور ننگ ہوافسردگی کہاں تئیں جیسے بجھا دیا

۱۰

بولا چچا کہ دل میں جو کرتا ہوں میں تمیزپاتا ہوں اپنے بیٹوں سے بھی تیرے تیں عزیزتیرے عوض جہاں کو اگر دیں تو کیا ہے چیزہونے نے تیرے بھائی کے غم کو بھلا دیا

۱۱

دل تنگ دیکھتا ہوں تو لاچار میں تجھےورنہ نہ دیکھوں بیکس و بے یار میں تجھےاس آگ میں نہ جانے دوں زنہار میں تجھےمت جان کو جلا تجھے کٹے لگا دیا

۱۲

اس ماجرے کو گرچہ دیا اس جواں نے طولپر بات اس کی آگے چچا کے نہ ہوئی قبولجب دیکھا مدعا نہیں ہوتا ہے یوں حصولبازو سے کھول باپ کا اپنے لکھا دیا

۱۳

پوچھا کہ کیا ہے یہ تو کہا کیجیے نظرلکھ دے گیا تھا مجھ کو دم مرگ یہ پدرپڑھتے ہی اس کے خون ہوا غم سے سب جگرمغموم ہو کے فرق مبارک جھکا دیا

۱۴

اس میں لکھا تھا یہ کہ سن اے مایۂ حیاتمیں تو موا پہ یاد رہے تجھ کو میری باتایسا نہ کیجیوکہ کہے سن کے کائناتابن حسن نے ساتھ چچا کا بھلا دیا

۱۵

القصہ پڑھ کے ساتھ بھتیجے کے تیں لیااہل حرم کو خیمے میں جا ایک جا کیااک جامہ بیش قیمتی اپنا اسے دیارو رو نکاح بیٹی کا اس سے پڑھا دیا

۱۶

رسمیں ہنوز باقی تھیں جو آئی اک صداکاے سیدو مگر نہیں تم میں کوئی رہاحاضر براے جنگ ہو قاسم جو اٹھ چلاچلنے نے ایسے اس کے سبھوں کو رلا دیا

۱۷

آیا دلھن سے حشر کا وعدہ جو درمیاںکہنے لگی کہ ڈھونڈھوں تو واں پاؤں میں کہاںبولا کہ پیش فاطمہ بولی کہ کچھ نشاںچاک آستیں کا ہاتھ اٹھا کر دکھا دیا

۱۸

نکلا جو خیمہ گاہ سے یہ مستعدکاراک ابر سامنے سے اٹھا اس کے فتنہ بارتیروں کی بارش اس سے تھی یا تیغ آبدارطوفاں ہوا کہ اس کو یکایک ڈبا دیا

۱۹

صرفہ کیا نہ شہ نے بھی پھر اپنی جان کاسینہ کے تیں سپر کیا تیغ و سنان کاجو تاج سر تھا فرق شہان جہان کااس طرح تونے خاک میں اس کو ملا دیا

۲۰

پر بیکسانہ جی سے گیا ہے وہ بے وطنیار و رفیق سب کے ہیں بے سر پڑے بدنکوئی نہیں رہا ہے کہ دیوے اسے کفنسب دار و دستہ کاٹ کے اس کا گرا دیا

۲۱

کیا کیں تھا اہل شام کو اس آفتاب سےکرتے رہے مضائقہ اک چلو آب سےآخر کیا حجاب نہ کچھ بوتراب سےسر کاٹ کر غریب کا نیزے چڑھا دیا

۲۲

خیمہ جہاں تھا اس کا ہوئے خیمہ گاہ خصماسباب عترتوں کا گئی لے سپاہ خصمتن اس کے دوستوں کے ہوئے فرش راہ خصمظلم و ستم سے مار کے سب کو بچھادیا

۲۳

مظلوم سیدوں کا نہ ثابت ہوا گناہآل نبی کا پاس کیا خوب واہ واہمارا جہاں کہ وھاں نہ ملا قطرہ آب آہلوہو سے ان پیاسوں کے دریا بہا دیا

۲۴

ناموس خاندان نبوت گئی ببادگھر بار لوٹ لے گئے اعداے بدنہادواماندگاں پہ حد سے تعدی ہوئی زیادان بیکسوں کا واہ رے انصاف کیا دیا

۲۵

احوال عابدیں سے کریں ہم سو کیا مقالآگے ہی تھا بدن کا مرض سے تباہ حالقیدی جو راہ جاتے ہوا اور پائمالناموس کی خرابی نے دونا سکھا دیا

۲۶

غیرت رہا تھا جو حرم کبریا کی گھرباشندگاں کو واں کے نکالا برہنہ سرجاویں ادب سے جس کے کنے ہاتھ باندھ کراس عابدیں کا ہاتھ رسن سے بندھا دیا

۲۷

ناچار جس طرح سے گیا وہ نہ کوئی جائےدیکھا جو کچھ کہ ان نے کسو کو نہ حق دکھائےآیا جو اس نزار سے ایوبؑ سے نہ آئےہر ہر قدم پہ ضعف بدن نے اڑا دیا

۲۸

کیا کچھ کیا نہ تونے فلک اس کے باب میںزنداں میں اہل بیت رہے پیچ و تاب میںبیٹی نے اس کی دیکھا اسے واں جو خواب میںاس واقعے کی دھوم نے دشمن جگا دیا

۲۹

شورش کی وجہ سن کے برا اپنے دل میں ماناٹھ بیٹھ روسیاہ نے سوتے سے اس ہی آنرکھ کر سر بریدہ کو کسوایا ایک خوانسربستہ پھر وہ خوان اسے واں منگا دیا

۳۰

کھولا جو خوان کو تو ہر اک نیم جاں ہوئیازبسکہ گرم نالہ و آہ و فغاں ہوئیچلائی بیٹی ایسی کہ محشر عیاں ہوئیجی کو غم پدر میں پھر ان نے کھپا دیا

۳۱

کیا چال تھی سپہر جو تیں اختیار کیبنیاد کھود ڈالی حرم کے جدار کیکچھ فکر ہے تجھے بھی سرانجام کار کیظالم کسے بگاڑ کے کس کو بنا دیا

۳۲

گھر پر علیؓ کے ایسی مصیبت تھی جب پڑیہر پردگی نکل کے ہوئی بے ردا کھڑیکیدھر تھے تیرے دیدۂ مہر و مہ اس گھڑیمل کر زمیں سے تونے نہ ان کو چھپا دیا

۳۳

اس کم سپہ کو خصم سے آخر لڑا رکھالاشے کو اس کے خاک میں بے سر پڑا رکھاسقف منقش اپنی کو تونے کھڑا رکھاگھر اہل بیت ختم رسلؐ کا بٹھا دیا

۳۴

خس کے لیے کوئی بھی الٹ دیوے ہے پہاڑکس جا خزف کے واسطے دیں ہیں گہر کو گاڑگلبن کو بہر خار کہاں ڈالے ہیں اکھاڑویرانہ گھر علی کا کیا کعبہ ڈھا دیا

۳۵

بس میرؔ اب تو خامۂ آتش زباں کو تھامسوز جگر سے تیرے جلے جا ہیں دل تماممانند شمع کشتہ خموشی سے کر کلامکیا کہیے گردش فلکی نے رجھا دیا

۵۸۱ / ۵۸۲