ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیا
رسمیں ہنوز باقی تھیں جو آئی اک صداکاے سیدو مگر نہیں تم میں کوئی رہاحاضر براے جنگ ہو قاسم جو اٹھ چلاچلنے نے ایسے اس کے سبھوں کو رلا دیا
About this couplet
This is couplet 16 of 35 in “ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۶ / ۳۵