ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیا

خس کے لیے کوئی بھی الٹ دیوے ہے پہاڑکس جا خزف کے واسطے دیں ہیں گہر کو گاڑگلبن کو بہر خار کہاں ڈالے ہیں اکھاڑویرانہ گھر علی کا کیا کعبہ ڈھا دیا

About this couplet

This is couplet 34 of 35 in “⁨ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۳۴ / ۳۵