ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیا

مرنا حسین کا ہے فلک یوں نہ جائے گاحلق بریدہ سے جو وہ عرصے میں آئے گاہر گام ایک تازہ قیامت اٹھائے گایہ وہ نہ ہو کہ خون کیا پھر دبا دیا

About this couplet

This is couplet 5 of 35 in “⁨ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۵ / ۳۵