ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیا

اصغر کو خیمہ گاہ سے لایا تھا تشنہ کامسو کام ایک تیر میں اس کا ہوا تمامپانی کا پھر حسین نے ہرگز لیا نہ نامدیکھا کہ طفل شیر کو لوہو چٹا دیا

About this couplet

This is couplet 7 of 35 in “⁨ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۷ / ۳۵