بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار

لوہو جبیں کے زخم سے جاوے گا کرکے جوشفرق مبارک اس کے میں مطلق نہ ہوگا ہوشسجدے میں ہو رہے گا جھکا سر کے تیں خموشآنے کا اپنے آپ میں کھینچے گا انتظارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

About this couplet

This is couplet 13 of 23 in “⁨بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۳ / ۲۳