کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار
بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یارجاویں گے مارے آنکھوں کے آگے سب ایک بارناچار اپنے مرنے کا ہوگا امیدوارہے آج رات اور یہ مہمان روزگارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
یک دم کہ تیری ہستی میں ہوجائے گا غضبسادات مارے جائیں گے دریا پہ تشنہ لببرسوں فلک کے رونے کا پھر ہے یہی سببمت آ عدم سے عالم ہستی میں زینہارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
ماریں گے تیر شام کے نامرد سارے لوگدیویں گے ساتھ اس کا جنھوں نے لیا ہے جوگتا حشر خلق پہنے رہے گی لباس سوگہوگا جہاں جوان سیہ پوش و سوگوارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
اکبر مرے گا جان سے قاسم بھی جائے گاعباس دل جہان سے اپنا اٹھائے گااصغر بغل میں باپ کے اک تیر کھائے گاشائستہ ایسے جور کا وہ طفل شیرخوارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
اے کاش کوئی روز شب تیغ شب رہےتا اور بھی جہاں میں وہ عالی نسب رہےلیکن عزیز جس کے مریں سب وہ کب رہےبے چارہ سینہ خستہ و بے یار و بے دیارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
ذات مقدس ابن علی کی ہے مغتنماک دم میں اس کے ہوویں الٰہی ہزار دمکیا شب رہے تو ہووے ہے ایام میں سے کمآتا ہے کون عالم خاکی میں بار بارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
کاکل میں تیرے فتنے ہیں ہر اک شکن کے ساتھہنگامہ کب رہا ہے ترے دم زدن کے ساتھرہ کوئی دن عدم ہی میں رنج و محن کے ساتھیہ بات دونوں جمع میں رکھتی ہے اشتہارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
جلوے میں تیرے سیکڑوں جلووں کی ہے فنایعنی سحر پہ آنا قیامت کا ہے رہادن ہوگیا کہ سبط نبی مرنے کو چلاساتھ اپنے دے چکا ہے تلف ہونے کا قرارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
آب فرات پر تو یہ شب دن نہ ہو کبھیخوں ریز ورنہ ہونے لگے گا بہم ابھیسید تڑپ کے پیاس سے مر جائیں گے سبھیپیغمبر خدا ہی کا پروردۂ کنارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
دن شب کو کس امید کے اوپر کرے بھلاجو جانتا ہو یہ کہ ستم ہوگا برملانکلے گی تیغ جور کٹے گا مرا گلااے واے دل میں اپنے لیے حسرتیں ہزارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
ایسا نہ ہو کہیں کہ نکل آوے آفتابجو وہ غیور مرنے میں اپنے کرے شتابدے بیٹھے سر کو معرکے میں کھا کے پیچ و تابتر خوں میں دونوں گیسو ہوں تن پر پڑے غبارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
جس دم خط شعاعی ہوئے رونق زمیںافگار ہوگی نیزۂ خطی سے وہ جبیںہوویں گے جمع پیادے سوار آن کر وہیںہوگا جدا وہ گھوڑے سے مجروح بے شمارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
لوہو جبیں کے زخم سے جاوے گا کرکے جوشفرق مبارک اس کے میں مطلق نہ ہوگا ہوشسجدے میں ہو رہے گا جھکا سر کے تیں خموشآنے کا اپنے آپ میں کھینچے گا انتظارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
خورشید کی بلند نہ ہو تیغ خوں فشاںہے درمیاں نبیؐ کے نواسے کا پاے جاںایسا اگر ہوا تو قیامت ہوئی عیاںوہ حلق تشنہ ہوگا تہ تیغ آبدارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
روشن ہوا جو روز تو اندھیر ہے ندانمیداں میں صاف ہو کے کھڑا دے چکے گا جانناموس کی پھر اس کے نہ عزت ہے کچھ نہ شاناک شش جہت سے ہوگی بلا آن کر دوچارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
پھر بعد قتل اس کے غضب ایک ہے یہ اوربختی چرخ راہ چلے گا انھوں کے طورشیوہ جفا شعار ستم طرز جن کی جورعابد کے دست بستہ میں دی جائے گی مہارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
مردان اہل بیت جو ہوں گے مریں گے سباس کے اثاث بیت کو غارت کریں گے سبناموس کے جو لوگ ہیں سو دکھ بھریں گے سبان قیدیوں کی لوہو میں ہووے گی رہگذارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
خورشید سا سر اس کا سناں پر چڑھائیں گےعالم کو دن دیے ہی سیہ کر دکھائیں گےبیٹے کے تیں سوار پیادہ چلائیں گےہوگا عنان دل پہ نہ کچھ اس کا اختیارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
پیکر میں ایک کشتہ کے ہوگی نہ نیم جاںخیل و حشم کا اس کے نہ پاویں گے کچھ نشاںشوکت کہاں سر اس کا کہاں جاہ وہ کہاںیہ جاے اعتبار ہے کیا یاں کا اعتبارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
صاحب موئے اسیر ہوئے شام جائیں گےسر کو جھکائے شرم سے ہر گام جائیں گےناچار رنج کھینچتے ناکام جائیں گےلطف خداے عزوجل کے امیدوارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
لازم ہے خونچکاں روش گفتگو سے شرمکر اس نمود کرنے کی ٹک آرزو سے شرمتجھ کو مگر نہیں ہے محمدؐ کے رو سے شرمبے خانمان و بے دل و بے خویش و بے تبارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
راہ رضا میں عاقبت کار سر گیاایسی گھڑی چلا کہ مدینے نہ پھر گیاجوں آفتاب جانب شام آکے گھر گیاخاطرشکستہ غم زدہ آزردہ دل فگارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
آثار دکھ کے ہیں در و دیوار سے عیاںچھایا ہے غم زمین سے لے تا بہ آسماںکچھ میرؔ ہی کے چہرے پہ آنسو نہیں رواںآیا ہے ابر شام سے روتا ہی زار زارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید
۴۷۴ / ۵۸۲