بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار

پیکر میں ایک کشتہ کے ہوگی نہ نیم جاںخیل و حشم کا اس کے نہ پاویں گے کچھ نشاںشوکت کہاں سر اس کا کہاں جاہ وہ کہاںیہ جاے اعتبار ہے کیا یاں کا اعتبارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

About this couplet

This is couplet 19 of 23 in “⁨بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۹ / ۲۳