کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
اژدرنامہ
یہ موذی کئی ناخبردار فننئی ناگنیں جن کے ٹیکوں پہ پھن
نہیں جانتیں میں ہوں مار سیاہزبانہ ہے آتش کا میری نگاہ
نفس ہے مرا افعی پیچ دارگیا جس سے خصم قوی من کو مار
جدھر پھر نظر دیکھوں لگ جائے آگدم دم کشی لب پہ کھیلیں ہیں ناگ
جہاں میں ہوں وہ جا ہے پرشر و شورعصا سے چلے راہ واں مار و مور
مری آنکھ سے زہر ٹپکا کیاجلا آگے میرے کبھو کب دیا
سن اس ماجرے کو سبھوں نے کہاکہاں کیچوے یہ کہاں اژدہا
نہ خصمی مری اژدروں سے ہوئیطرف مجھ سے ہو جونک کیا ادھ موئی
اگر شور زاغاں سے ڈر جائے مارتو کیا اجگروں کا رہے اعتبار
نہ کس طور اژدر کو تلواسہ ہوحریف اس کی سوکھی سی چلپاسہ ہو
کہاں چھپکلی اژدہے سے لڑیکس اژدر پہ ایسی قیامت پڑی
ہزار اجگر اندوہ سے جائے لٹولے ایسے کیڑے مکوڑے ہیں چٹ
جہاں شور اژدر سے ہے دھوم دھامکوئی کنسلائی سے نکلے ہے کام
بظاہر یہ لائے تو ہیں پر نکالولے ہوں گے ان کے جیوں کے وبال
حریفی انھوں سے ہو اژدر کی کبوہ کھینچے جو یک دم تو پھنکا ہیں سب
حکایت بعینہ یہ دل سے ہے میرؔسر راہ کہتا تھا جو اک فقیر
کہ تھا دشت میں ایک اژدر مقیمدرندوں کے بھی دل تھے اس سے دو نیم
نکلتے نہ تھے اس طرف ہو کے شیرپلنگ و نمر واں نہ رہتے تھے دیر
جہاں شیر کا زہرہ ہوتا ہو آبشغال اور روبہ کا واں کیا حساب
وہ صحرا تھا اس کے سبب ہولناکدم اس کے نے واں کی اڑا دی تھی خاک
نکلتا تھا جب بہر برگ و نواشجر کے شجر ہوتے تھے تب ہوا
کہاں سایہ اس جا و سبزہ کہاںدرخت اس کے چاٹے رہے تھے نہ واں
صدا جب مہیب اس کی ہوتی بلندجگر چاک کرتے ہوا سے پرند
درندوں کے برجا نہ رہتے حواسچرندے مکانوں سے ہوتے اداس
وحوش اس بیاباں میں جاتے نہ تھےطیور آشیانوں میں آتے نہ تھے
کبھو اس کی رہ میں جو اٹھتا غبارتو وہ دشت تھا ایک تاریک غار
پہنچتا تھا گردوں تلک شور و شرہوا صاف ہوتی نہ دو دو پہر
رہا کرتی کوسوں تلک اس کی دھومنہ اس راہ آتا کوئی جز سموم
ہوئے ساکنان بیاباں بتنگاٹھے کوہ و وادی سے شیر و پلنگ
گئے جان لے لے وحوش و طیورکوئی رہ گیا موش و مینڈھک سا دور
گئی لومڑی ایک سوکھی ہوئیکسو اور جنگل میں بھوکی ہوئی
گلے میں جو یاں کے کھلے اس کے لبہوئے واں کے اعیان گرم غضب
خراطین و خرموش و موش و شغالاس اژدر کو کر جنس اپنی خیال
رواں ساتھ اس کے شبانہ ہوئےکئی گرگٹ آگے روانہ ہوئے
رعونت سے مینڈھک اچھلتے چلےبلوں میں سے چوہے نکلتے چلے
قریب اس بیاباں کے جس دم گئےانھوں میں سے آگے بہت کم گئے
قضارا وہ آفت تھی سرگرم سیرچلے آتے تھے بھاگتے وحش و طیر
اس آشوب سے دست و پا گم کیےفراموش سب نے سر و دم کیے
لگا ڈرنے خرموش سا پہلواںہوا مضطرب کیچوا سا جواں
وہ گرگٹ کہ جس کو تھی گردن کشیہوئی خوف سے اس پہ طاری غشی
قدم غوک سے گرد کا جل گیابھروسا تھا گیدڑ پہ سو ٹل گیا
جہاں پہلواں موش رستم معاشلگا کرنے میدان میں بل تلاش
کہ سوراخ پاوے تو روپوش ہویہ تشویش یک دم فراموش ہو
ولے چھوڑتا کب ہے خصم قویکہ ہو خوف جاں سے کوئی منزوی
پراگندگی تھی اس انبوہ میںکہ گونجی بلاے سیہ کوہ میں
اس آواز سے جی نکل ہی گئےجو ثابت قدم تھے بچل ہی گئے
سیہ جب ہوا ہوگئے منھ سفیدہوئے مدعی جان سے ناامید
بھرا ایک دم ان نے وا کر دہاںکہ پایا اس انبوہ کو نیم جاں
دم دیگر ان سے نہ کوئی رہاوہی دشت خالی وہی اژدہا
زبانہ وہی آگ کا چار اورہوا گرم ویسی ہی ویسا ہی شور
وہی دم کشی شام سے تا سحراسی ہولناکی سے وہ دشت و در
گئی یہ خبر جس بیابان میںرہی سدھ نہ کچھ واں کے سکان میں
کنھوں نے کبھو منھ نہ ایدھر کیانہ پھر نام اس اژدہے کا لیا
مری ان گزندوں کی صحبت ہے یہطرف ہوں مرے ان کی طاقت ہے یہ
جو مجھ کو ہو کچھ بھی انھوں کا خیالتو یہ مارگیری کریں کیا مجال
تو کیا ہو انھوں سے بہت دور میںہوں اپنی جگہ شاد و مسرور میں
مری قدر کیا ان کے کچھ ہاتھ ہےجو رتبہ ہے میرا مرے ساتھ ہے
کہاں پہنچیں مجھ تک یہ کیڑے حقیرگیا سانپ پیٹا کریں اب لکیر
۴۷۵ / ۵۸۲