کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
اے شہ اقلیم شوکت السلام
۱
اے شہ اقلیم شوکت السلامرونق تخت خلافت السلام
۲
اختر چرخ سیادت الصلوٰۃنیر برج سعادت السلام
۳
تو جو ناگہ خانہ روشن کر گیاتیرہ ہے بزم رسالت السلام
۴
مقتدا تو پیشواؤں کا رہاتجھ کو زیبا تھی امامت السلام
۵
تو ہے جس پر دم بہ دم بھیجیں درودیا کہیں ساعت بہ ساعت السلام
۶
کربلا میں تو جہاں قائم رہاتھا قیام اس جا قیامت السلام
۷
بات کہتے جان اپنی دے گیااے تمامی جود و ہمت السلام
۸
امتحان حق سے یوں نکلا ہے کوناللہ اللہ تیری غیرت السلام
۹
وادی بے آب میں تو کیا کھلااے گل باغ شہادت السلام
۱۰
غم میں تیرے خاک ہو کیونکر نہ میرؔسخت تھی اس کو کدورت السلام
۴۷۸ / ۵۸۲