کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
اے سبط مصطفےٰ کے تجھ کو سلام پہنچے
اے سبط مصطفےٰ کے تجھ کو سلام پہنچےاے جان مرتضےٰ کے تجھ کو سلام پہنچےاے حکم کش قضا کے تجھ کو سلام پہنچےاے غمزدہ سدا کے تجھ کو سلام پہنچے
بابا شہ ولایت نانا کی خلق امتدریا کنارے اترے سارے وہ بے مروتتو تشنہ کام تنہا یہ رنج یہ مصیبتاے مبتلا بلا کے تجھ کو سلام پہنچے
بیٹے بھتیجے بھائی یار و رفیق سارےساقی کوثر آگے کیا تشنہ لب سدھارےپانی جو تونے مانگا سو تیر تجھ کو مارےاے خستہ دل جفا کے تجھ کو سلام پہنچے
اللہ ری تیری عزت مرنا جو تونے ٹھانازنہار منھ نہ پھیرا گو پھر گیا زمانہآتا ہے کس سے ایسا بیکس ہو مارے جانااے دل زدہ رضا کے تجھ کو سلام پہنچے
برسا کی تیغ لیکن تونے سپر نہ رکھیدریا بہا کیا پر تونے نظر نہ رکھیکیا کہیے جب توجہ ٹک جان پر نہ رکھیکشتہ ہیں اس وفا کے تجھ کو سلام پہنچے
تسلیم کا رضا کا دیکھا ترا عجب ڈھبوقت بریدن سر سجدے میں تھا مودبیہ بندگی الٰہی یہ انکسار یارباے شوق کش خدا کے تجھ کو سلام پہنچے
مجلس میں گر پڑا تھا گرم آش کا پیالہچھینٹیں پڑیں جو تجھ پر سہما وہ لانے والاغصے کو کھا گیا تو منھ سے نہ کچھ نکالااے صاحب اس حیا کے تجھ کو سلام پہنچے
تعریف سے ہے باہر سید ترا یہ ساکاشائستہ معرکے میں تو ہی تھا اپنی جا کااب نقش ہے دلوں پر تیرے ثبات پا کااے باب صد ثنا کے تجھ کو سلام پہنچے
درویش بے بضاعت ہے میرؔ دست کوتہغیر از سلام تحفہ رکھتا نہیں ہے کچھ وہہر لحظہ اور ہر دم ہر گاہ اور بے گہاے شاہ دوسرا کے تجھ کو سلام پہنچے
۴۷۷ / ۵۸۲