کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
تسنگ نامہ
پاؤ توفیق ٹک تو سر کو دھنویہ بھی اک سانحہ ہے میرؔ سنو
ہم کو درپیش تب سفر آیاجب کہ برسات سر ہی پر آیا
ابر ہونے لگے سپید و سیاہپانی رستوں میں کیچ ساری راہ
بیچ میں ہوتے کچھ اگر اسبابمنھ اٹھانے کی جی میں ہوتی تاب
سو تو کمل نہ پٹو نے لوئیسایہ گستر نہ ابر بن کوئی
ابر ہی بیکسی پہ روتا تھاابر ہی سر کا سایہ ہوتا تھا
کیچ پانی میں کپڑے خوار ہوئےووہیں گاڑی میں جا سوار ہوئے
رہروی کا کیا جو ہم نے میلبھینس چہلے کے تھے بہل کے بیل
آسماں آب سب زمیں سب کیچخاک ہے ایسی زندگی کے بیچ
شب کہ دریا پہ ہوکے راہ پڑیپانی کے سطح پر نگاہ پڑی
لجے لطمے کا کیا کہوں میں اوجباتیں کرتی ہے آسماں سے موج
دامن ابر پاٹ دریا کادے گرہ توکہے کہ باندھا تھا
ہوش جاتا تھا دیکھ جوش آبگوش کرتا تھا کر خروش آب
آب تہ دار اور تیرہ بہتلہر اٹھتی جو تھی سو خیرہ بہت
پانی پانی تھا شور سے طوفاندیکھ دریا کو سوکھتے تھے جان
ہمرہ موج سیکڑوں گردابساتھ تھی صد تری کے چشم حباب
ناؤ میں پاؤں ہم نے بارے رکھاخوف کو جان کے کنارے رکھا
جزر و مد سب حواس کھوتا تھاخضر کا رنگ سبز ہوتا تھا
جب کہ کشتی رواں ہوئی واں سےجسم گویا کہ تھا نہ تھی جاں سے
موجہ اٹھنے لگا جو طوفاں زالجہ آیا نظر سو عماں زا
کیا کہیں ڈوب ہی چلے تھے ہمناخدائی خدا نے کی اس دم
بلی لگتی نہ تھی نہ کچھ تھی تھاہعقل گم کردہ لوگ تھے ہمراہ
ریلا پانی کا جب کہ آتا تھاخوف سے جی بھی ڈوبا جاتا تھا
خطر غرق سے تھی طاقت طاقبے خودی سے ہوا تھا استغراق
بہتا پھرتا تھا خضر کشتی پاسغوطے کھاتے تھے حضرت الیاس
بدبلا سے تھے ہم کنار ہوئےتھا خدا ہی تو پلے پار ہوئے
کسو درویش کا تھا یمن قدمجا کے پہنچے جو اس کنارے ہم
ورنہ اعمال نے ڈبویا تھاگوہر جاں سے ہاتھ دھویا تھا
اس کنارے کا جو اثر پایاہم تلاطم کشوں میں جی آیا
اس طرف اترے آب کے جاکرمیرؔ اور پیر صاحب و چاکر
شکر لب پر دلوں سے محو گلہکس و ناکس سبھوں سے خضر ملا
پار کا گنج تھا جو شاہدرہسب نے رہنا وہیں کا جی میں دھرا
فاصلہ ایک کوس کا تھا بیچراہ یاں سے تھی واں تلک سب کیچ
تھے بہت بیچ میں نشیب و فرازپہنچے واں شام کھینچ رنج دراز
سو نہ جاگہ تھی نہ مکان مبیتچار دوکانیں ایک پھوٹی مسیت
جاکے حیراں ہوئے کدھر جاویںسر گھسیڑیں جو ٹک جگہ پاویں
تگ و دو ہر طرف لگے کرنےتس پہ پڑتے تھے مینھ کے بھرنے
کوئی میداں میں کوئی چھپر میںکوئی در میں کوئی کسو گھر میں
گھر ملا صاحبوں کو ایسا تنگجس سے بیت الخلا کو آوے ننگ
بیٹھنے دیں نہ جب کہ صاحب کوکون پوچھے نفر مصاحب کو
ڈھونڈھتے ڈھونڈھتے سرا پائیویسے گھر چھوٹے ویسی جا پائی
رہنا بھٹیاری کے غنیمت جانجو کہا ان نے ہم گئے سب مان
کچھ پکانے کا جب سوال کیامیں نے اظہار اپنا حال کیا
یاں جو لائے ہیں مجھ کو اپنے ساتھزندگانی مری ہے ان کے ہاتھ
پہنچے ہے ان کے روبرو سے طعامصبح کا صبح مجھ کو شام کا شام
اور پکوایئے تو زائد ہوخامی سے اپنے اور عائد ہو
جو کچھ آیا سو کھا لیا میں نےکچھ رہا سو اٹھا دیا میں نے
سن کے اک دل سے کھینچی ان نے آہاور بولی کہ واہ صاحب واہ
ہم تو جانا تھا آدمی ہو بڑےچار پانچ آدمی ہیں پاس کھڑے
کچھ یہ کھاویں گے کچھ کھلاویں گےہم کچھ ان کے سبب سے پاویں گے
سو تو نکلے ہو کورے بالم تمہو گدا جیسے شاہ عالم تم
کھانے پینے کی کچھ نہیں ہے باتدیکھیے کس طرح سے گذرے رات
صدقے ہیں ایسے بھی اتارے کےسوگئے بخت گھر ہمارے کے
میں کہا مہترانی جی کچھ لومجھ سے آزردہ دل نہ اتنی ہو
بعضے کھاتے ہیں کچھ کھلاتے ہیںبعضے مجھ سے بھی آتے جاتے ہیں
بارے جوں توں ہوئی وہ رات تمامصبح کو صاحبوں کا ٹھہرا مقام
یہ بھی دن شب ہوا سحر تھا کوچغازی آباد کو گئے سب پوچ
راہ طے کر سرا میں جا اترےکچھ ستم دیدہ پاس آ اترے
صاحب اترے حویلی میں آکرباغ میں اس کے سب نفر چاکر
بارور تھے درخت و سایہ بھیپھل ولیکن کنھوں نے پایا بھی
اس بھی منزل میں ایک روز رہےگذرے جس طور کوئی کس سے کہے
لوگ جس دم سوار ہونے لگےاور اسباب بار ہونے لگے
سوہنی اس روا روی میں گئیلوگ تھے مضطرب جگہ تھی نئی
وحشت اس کو زبس کہ طاری ہوئیسر پٹک کر کسو طرف کو موئی
ایدھر اودھر تلاش کر دیکھاگمشدہ کو نہ بھر نظر دیکھا
ساری بستی میں جست و جو کو گیادیر تک یہ خیال سب کو رہا
جن کی آتی ہے ایسے جاتے ہیںکہ نہ پھر کھوج ان کا پاتے ہیں
مرگ تھی اس کی اس جگہ تقدیربلی تھی یاکہ گربۂ تصویر
رنگ جیسے کہ وقت گرگ و میشیعنی سرخی تھی کم سیاہی بیش
جن سے مالوف تھی وہیں رہتیان سے کچھ کچھ نگاہوں میں کہتی
کیا نفاست مزاج کی کہیےستھری اتنی کہ دیکھ ہی رہیے
خال جوں پھول گل کترتے ہیںیاکہ نقشوں میں رنگ بھرتے ہیں
چوہے چڑیا پہ ان نے کب کی نظرحج کا کرنا نہ فرض تھا اس پر
موہنی بھی تو تھی بہن اس کینسبت اس کی تھی وہ بہت گھسکی
پاوے جو کچھ سو مار کھاوے یہایک کیا چار چار کھاوے یہ
جانور مارنا تو ہے یکسوتیز پنجہ کیا نہ ان نے کبھو
یہ نزاکت اسی کو بن آوےموش دشتی کو دیکھ ڈر جاوے
ان نے مارے ہیں ایسے کتنے ڈھونسگھونس دیکھی تو ہووے کوئی گھونس
یہ چھچھوندر کے بولتے بھاگےوہ پڑی سوتی بھی ہو تو جاگے
چھپکلی سے یہ پھیر منھ کو لےوہ جفاکار جیفہ پر جی دے
یہ پری سی تھی جو خرام کرےوہ جو اچھلے تو دھوم دھام کرے
کبک اس کی خرام کے عاشقجانور اس کے نام کے عاشق
غرض افسوس کی جگہ بلیاب کہاں گوکہ چھانیے دلی
ایسی بیگم مزاج بلی کھوبیگم آباد ہم گئے یارو
واں سے میرٹھ سبھوں نے کی منزلکیچ پانی اگرچہ تھا حائل
گرتے پڑتے پہنچ گئے سارےہم جفاے سپہر کے مارے
واں سے لاوڑ تسنگ پھر واں سےجاکے واں تنگ آگئے جاں سے
اک گڑھی باش و بود کو پائیکچھ نہ کھانے کو جس میں نے کھائی
پھوٹی پھاٹی سی چاردیواریاور میدان تھی گڑھی ساری
پھر نہ میدان بھی برابر تھاہر قدم ایک غار و چقر تھا
کھنڈر سے اس میں تین چار مکانجن کا گرنے پہ سخت ہے میلان
وہ گڑھے سارے کھتے ناج کے تھےبرسوں سے تھے پڑے نہ آج کے تھے
خاک مٹی سے ان گڑھوں کو بھرابنگلا اک لا کے اس کے بیچ دھرا
خشتی پائے اگر نہ بنواتےباؤ میں اس سمیت اڑ جاتے
باؤ جنگل کی تند کچھ نہ رکاؤمینھ میں چل پڑے تو کانپے جاؤ
اک گڑھی جس کی سیکڑوں راہیںواں ٹھہرنے کو چاہیے باہیں
وہ رہے جو رکھے بہت سے لوگیا کوئی جوگی جو کرے واں جوگ
ورنہ مشکل بہت ثبات قدمدل میں اک ہول ہی رہے ہر دم
باؤ سی دن کو سائیں سائیں کرےرات ہووے تو بھائیں بھائیں کرے
گر شکستہ ہوئی کہیں دیواربے زری سے بنانا ہے دشوار
ہفتہ ہفتہ تلک پڑی ہے خرابپردہ کاہے کا پھر ہے رفع حجاب
کارپردازوں کو تقید ہےشور ہے گالی ہے تشدد ہے
وے بچارے بہانے کرتے ہیںرات دن لوگ چوکی بھرتے ہیں
کہتے ان سے تو یہ ملے ہے جوابکس کے گھر سے بناویں لاکے شتاب
ہم کو کھانے ہی کا تردد ہےصبح بقال کا تشدد ہے
بنیا منھ کو چھپائے جاتا ہےروٹی کا فکر کھائے جاتا ہے
حال کب پوچھنے کے ہے قابلہم فقیروں کے رنگ ہیں سائل
سوچیں ہیں جب تو جھول جاتے ہیںبات کہتے ہیں بھول جاتے ہیں
تم کو دیوار پاکھے ہیں گے یادہم کو کرتا نہیں خدا آزاد
کس کو موسیں کہاں سے کچھ لاویںدال آٹا جو تم کو پہنچاویں
تم کہو دال ماش کی ہے زبوںیاں بہم پہنچے ہے جگر ہو خوں
تم کہو آٹا کسکسا کھایایاں کلیجہ چھنا تو ہاتھ آیا
اور دوچار روز یہ بھی ہےایک غم سینہ سوز یہ بھی ہے
فصل ہونے ابھی نہیں پائیپیشگی سب سے قرض لے کھائی
جس سے جھوٹے ہوئے ہیں ہم دس بارچوٹٹا وہ کہے ہے ساہوکار
ماش کی دال کا نہ کریے گلہگوشت یاں ہے کبھو کسو کو ملا
چاہتے ہو تو مول لو اک بزورنہ بیٹھے رہو بنے جزبز
بکری لینے کو پیسے ہیں کس پاسکھاؤ دال اور پادو بے وسواس
جی اگر چاہے کوئی ترکاریگول کدو ملے بصد خواری
بھنڈی بیگن کے ناؤں ڈھینڈس تھااروی توری بغیر جی بس تھا
جز کدو پاوے کلو مدھو کیایعنی کچھ اور واں تھا کدو کیا
دارو گولی کے کچھ نہ تھے اسبابماش کی دال کھاتے تھے احباب
جو گڑھی میں نہ چھوٹتے یوں گوزبجتی رہتی تپک کہاں سے روز
گھاس ہی گھاس اس مکاں میں تمامتس میں لساع جانور اقسام
جیسے زنبور زرد ایسے ڈانسکاٹ کھاویں تو اچھلو دو دو بانس
پشہ و کیک اور کھٹی تھیجن کے کاٹے اچھلتی پتی تھی
ہاتھ پنڈوں پہ سب چلے جاتےشب گزوں سے بدن جلے جاتے
ان کے کاٹے بدن پہ دانہ ہےمرچ جدوار پھر لگانا ہے
ایک دو دن جلا فراغ ہوااس کی جاگہ سیاہ داغ ہوا
نہ کھجاتے کھجاتے سارے گھسےچٹھے چٹھے ہوئے جو دانے پسے
دن کو وہ صورت طعام ہوئیرات کو نیند یوں حرام ہوئی
کتوں کے چاروں اور رستے تھےکتے ہی واں کہے تو بستے تھے
دو کہیں ہیں کھڑے کہیں بیٹھےچار لوگوں کے گھر میں ہیں پیٹھے
ایک نے پھوڑے باسن ایکو نےکھود مارے گھروں کے سب کونے
کوئی گھورا کرے کوئی بھونکےخفتہ خفتہ بھی شور سے چونکے
سانجھ ہوتے قیامت آئی ایکشور عف عف سے آفت آئی ایک
گلہ گلہ گھروں میں پھرنے لگےروٹی ٹکڑے کی بو پہ گرنے لگے
ایک نے آکے دیگچہ چاٹاایک آیا سو کھا گیا آٹا
ایک نے دوڑ کر دیا پھوڑاپھر پیا آکے تیل اگر چھوڑا
گھورنے اک لگا اندھیرا کرایک نے اور ایک پھیرا کر
گھر میں چھینکے اگر تھے توڑ دیےہانڈی باسن گرا کے پھوڑ دیے
لوگ سوتے ہیں کتے پھرتے ہیںلڑتے ہیں دوڑتے ہیں گرتے ہیں
جب کہ ہڈی پہ چار چار لڑیںگوشت پر بھیڑیے سے دوڑ پڑیں
ایک کے پیچھے ایک روز و شبلینڈھے سے واں نہ بندھ رہے تھے کب
کتے ہی واں دوچار رہتے ہیںدو گئے بھی تو چار رہتے ہیں
جاگتے ہو تو دوبدو کتےسو کر اٹھو تو روبرو کتے
سر پہ دربان کے بلا ہی رہےکتا ایک آدھ گھر میں جا ہی رہے
منھ میں کف دور دور کرنے سےحال بے حال شور کرنے سے
توکہے سن کے وہ گلا پھاٹاباولے کتے نے اسے کاٹا
کتوں کی کیا سماجتوں کو کہیںچچڑی سے رات دن لگے ہی رہیں
باہر اندر کہاں کہاں کتےبام و در چھت جہاں تہاں کتے
جھڑجھڑاوے ہے کان کو کوئیرووے ہے اپنی جان کو کوئی
یک طرف ہے چپڑچپڑ کی صدایعنی کتا ہے چکی چاٹ رہا
ایک چھنے کو منھ میں لے آیاایک چولھے کو کھودتا پایا
ایک کے منھ میں ہانڈی ہے کالیایک نے چلنی چاٹ ہے ڈالی
تیل کی کپی ایک لے بھاگاایک چکنے گھڑے سے جا لاگا
کتے یارو کہ جان کا تھا روگجاں بلب ہوں نہ کس طرح سے لوگ
آدمی کی معاش ہو کیوں کرکتوں میں بود و باش ہو کیوں کر
بستی دیکھی سو ایسی تھی آبادکہ بیابان سخت سے دے یاد
چار چھپر کہیں چماروں کےسو بھی ٹوٹے گرے بچاروں کے
پھر چلو آگے تو نہیں ہے کچھڈھنڈھ سا اور جو کہیں ہے کچھ
پھوٹی ٹوٹی کوئی حویلی ہےسو بھی میدان میں اکیلی ہے
ایک دو مردے سے پڑے ہیں واںزرد ہو ہوگئے ہیں بے لب ناں
لوگ ایسے مکان سب ایسےایسی جاگہ سے اچٹیں دل کیسے
اور جو چار گھر نظر آئےان کی خوبی کھلے وہیں جائے
وہ بھی کولی چمار تھے کوئیفاقوں کے زیر بار تھے کوئی
صورتیں کالی سوکھے سوکھے سےسارے کنگال اور بھوکھے سے
چار دانوں کے واسطے جی دیںجان کھا جائیں کچھ نہ جب تک لیں
اس سے آگے بڑھے تو دھینور تھےاجڑے پجڑے انھوں کے کچھ گھر تھے
اور آگے گئے تو تھا بازاراس میں بنیوں کی تھیں دکانیں چار
ایک کے پاس دال کچھ آٹاتس کو بھی مکھیوں نے تھا چاٹا
ایک کے سانواں اور تھوڑے چنےچھبڑوں میں خاک دھول ایک کنے
جو تھا باقی رہا سو تھا کنگالناؤں کو کہتے تھے اسے بقال
اس کا عامل کے یاں اٹھا مایہان نے جیسا کیا تھا سو پایا
ایک کنجڑے کے چار گٹھی پیازتس پہ اس کو ہزار فخر و ناز
کیا کہوں مرچ تھی نہ ادرک تھیاس مچھندر میں کچھ بھی بھدرک تھی
ایک دوکان تھی پساری کیان نے ہم لوگوں سے بھی یاری کی
اس سے جاکر جو مانگیے ہلدیزرد مٹی کو باندھ دے جلدی
دیکھ کر کچھ کہو تو وہ یہ کہےبس تم اس بستی میں میاں جی رہے
یاں جو کچھ ہے چلن سو دیتا ہوںمیں بھی پیسے لگا کے لیتا ہوں
مانگو اس سے جو مرچ یا دھنیادیوے لچا وہی بتا دھنیا
ان میں دو دانے اور سب کنکردیے کاغذ میں ہاتھ لنباکر
لونگ چورا نفر سے منگوایالال مرچیں کٹی ہوئی لایا
اور اشیا یہیں سے کریے قیاسآگے جاتا نہیں کہا مجھ پاس
اور دس بیس گھر گنواروں کےاور دو چار فاقہ ماروں کے
پھوٹی مسجد خطیب تھا نہ اذاںیہی خانہ خطیب کا تھا واں
نہ تھی قید صلوٰۃ و رسم صوماس پہ سید امام واں کے قوم
بندے سب جن کا تھا خدا نہ کوئیاس طریقے سے آشنا نہ کوئی
راہ و رسم و طریق سب بے ڈھبپہلے گالی تھی پیچھے حرف بہ لب
کوسوں بھاگا اگر ملا کوئیصحبت ایسوں سے رکھے کیا کوئی
ایک تکیہ نہ جس میں فرش کاہحال درویش قابل صد آہ
ٹکڑے ٹکڑے کی احتیاج اس کومرض جوع لاعلاج اس کو
برسوں چلا کے ناامید ہواچپکی سادھی جگر میں چھید ہوا
آتے جاتے سے ان نے جو پایااسی پر رہ گیا وہی کھایا
گرد جو چار خاک کے سے ڈھیرجن کو کہتے تھے لیٹے ہیں یاں شیر
اپنا تو اعتقاد تھا ہی کمپر کبھو بلی بھی نہ دیکھی ہم
کچھ نہ دیکھا ہم ان بھی گوروں سےکام نکلا سو اپنے زوروں سے
کی توجہ جو ٹک دروں کی اوردل جگر پر مرے پڑا کچھ زور
جس سے چھاتی میں درد ہونے لگارنگ چہرے کا زرد ہونے لگا
پھر زمیں داروں میں نفاق ہوایہ عجب اور اتفاق ہوا
دونوں کا اک جدا ہی مطلب ہےیہ کہے روز وہ کہے شب ہے
آس پاس اس گڑھی کے آئی جھیلگم تھے برسات میں طریق و سبیل
ایدھر اودھر اتر کے پانی جاؤقہر ہے پھر جو ٹک بھی ہووے چڑھاؤ
اس سے واں کی ہوا بہت مرطوبہووے نزلہ زکام بے اسلوب
کتنے زوروں میں ہوتی ہے کھانسیایسی جیسے گلے میں دیں پھانسی
پھر وہ درجہ ہے جس میں ہووے دقیہ کوئی نکلی ایک ثالث شق
پڑی آفت خطر تھا سکھوں کاکیونکہ وہ ملک گھر تھا سکھوں کا
اس میں آجاتے تو قیامت تھیمال و جاں غرض سب کی رخصت تھی
نہ کوئی دادرس نہ وقت دادمفت ہی ہم گئے تھے سب برباد
کیا کڈھب چرخ کج نے پھینکا تھاپر خدا کچھ ہمارا سیدھا تھا
جس نے قدرت نمائی کی اپنیاس بلا سے رہائی کی اپنی
بس قلم ہے صریر تیری تندشور سے تو پڑا جہاں میں دند
بدزبانی کا مجھ کو کب ہے دماغایسی باتوں سے میں کیا ہے فراغ
ہوچکی صاحبوں کی فرمائشچپ رہ اب ہے زمان آسائش
۴۸۸ / ۵۸۲