کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

تنبیہ الجہال

۱

صحبتیں جب تھیں تو یہ فن شریفکسب کرتے جن کی طبعیں تھیں لطیف

۲

تھے ممیز درمیاں انصاف تھاخار و خس سے کیا یہ عرصہ صاف تھا

۳

دخل اس فن میں نہ تھا اجلاف کوکچھ بتاتے تھے بھی سو اشراف کو

۴

تھے جو اس ایام میں استاد فنناکسوں سے وے نہ کرتے تھے سخن

۵

پھر حصول اس سے نہ دنیا ہے نہ دیںکوئی حاجت اس سے وابستہ نہیں

۶

گر چمار اس کارخانے میں نہ ہوٹوٹے جوتے کو کہاں لے کر پھرو

۷

چار ناچار اس کنے جانا پڑےکوڑیاں دے جوتی گٹھوانا پڑے

۸

حاجت اس فرقے سے مطلق یاں نہیںجو نہ ہو شاعر تو کچھ نقصاں نہیں

۹

یہ تو دنیا میں ہے اس فن کو کمالدین کا اس فرقے کے پوچھو نہ حال

۱۰

کذب ہو جس جاے رونق بخش سمعواں کی دینداری رکھو اور دل کو جمع

۱۱

جھوٹ آوے اس قدر جب درمیاںتو یقیں ایمان کیسا دیں کہاں

۱۲

ہم تلک تھی بھی وہی رسم قدیمیعنی جن کے ہوتے تھے ذہن سلیم

۱۳

پیار کرتے تھے انھیں استاد فنان کے ہوتے رہبر راہ سخن

۱۴

جلف واں زنہار پاتے تھے نہ بارشاعری کاہے کو تھی ان کا شعار

۱۵

نکتہ پردازی سے اجلافوں کو کیاشعر سے بزازوں ندافوں کو کیا

۱۶

الغرض یاروں نے قیدیں دیں اٹھاجو کوئی آیا اسے دی پاس جا

۱۷

ٹک نہ استعداد سے کی گفتگوکچھ نہ رکھی شاعری کی آبرو

۱۸

چار سکھیاں کہہ کے دیں ناکس کے ہاتھپھر اسے مجلس میں لائے اپنے ساتھ

۱۹

آپ بیٹھے صدر میں وہ دست چپکرنے لاگے شاعری سے حرف گپ

۲۰

بولے ان کو آج کل سے ہے خیالذہن ان کا تیزی رکھتا ہے کمال

۲۱

ہو رہیں گے کچھ اگر صحبت رہیاور ہم سے بھی انھیں الفت رہی

۲۲

جو ہوا ثابت وہ ان کا مستفیدسب نے جانا اس کو شاگرد رشید

۲۳

کی اشارت تاکہ وہ کھولے دہنآگے استادوں کے ہو گرم سخن

۲۴

ان کے ایما سے وہ کچھ پڑھنے لگاصاحبان فن کے منھ چڑھنے لگا

۲۵

نیم قد اٹھ اٹھ کے یہ سننے لگےجا و بیجا سر کے تیں دھننے لگے

۲۶

وہ سراپا جہل ناگہ وقت کارہم سے تم سے کرنے لاگا اعتذار

۲۷

سر میں رکھ کر دعوی طبع لطیفمیرؔ و مرزاؔ کا ہوا آخر حریف

۲۸

کیسی کیسی یوں گئیں طبعیں بہ بادآفریں شاگرد و رحمت اوستاد

۲۹

جب تلک یاں تھی تمیز زشت و نیککاہے کو یوں شعر کہتا تھا ہر ایک

۳۰

اہل فن کی رہتی تھی سب کو تلاشان کے ہاں کرتے تھے جاکر بودوباش

۳۱

جوکہ خودسر رکھتے استادوں سے عاران کے تیں ہرگز نہ ہوتا اعتبار

۳۲

زندگی بلکہ انھوں پر شاق تھیہاتھ گر لگ جاتی تھی شلاق تھی

حکایت

۳۳

شائق فن تھا وزیر اصفہاںایک دن آیا ہلالی اس کے ہاں

۳۴

حاجبان در سے ہو آگاہ کارکی اشارت تا اسے دیں گھر میں بار

۳۵

عزت و تعظیم کی حد سے زیادپاس لے مسند پہ بیٹھا شاد شاد

۳۶

ان نے کھینچی اس کی مرزائی بہتبیٹھے بیٹھے رات جب آئی بہت

۳۷

شعر کی تقریب لاکر درمیاںکرنے لاگا شاعری کا امتحاں

۳۸

شعرخوانی کی پڑھا سو تھا غلطسنتے ہی بھڑکا وہ شعلہ کی نمط

۳۹

غصہ ہو بولا کہ ہاں فراش و چوبکھینچ لا میداں میں کی شلاق خوب

۴۰

اس قدر مارا کہ بے دم ہوگیاسوج دست و پا ہر اک تھم ہوگیا

۴۱

کھینچ کر ڈلوا دیا دربار میںیہ خبر پہنچی جو ہر بازار میں

۴۲

وارث اس کے لے گئے آ رات کوجب بخود آیا تو پایا بات کو

۴۳

یعنی دستور زماں دشمن نہ تھایا وہ کچھ ناآشناے فن نہ تھا

۴۴

غالباً پایا غلط اشعار کوخوش نہ آیا اس کرم کردار کو

۴۵

ورنہ شیوہ اس کا ہے لطف و کرمجائزے میں دے ہے دینار و درم

۴۶

مجھ کو کیوں شلاق کرتا اتنی شبکاہے کو بدنام ہوتا بے سبب

۴۷

پس مجھے ہے تربیت اپنی ضرورجا کے بیٹھوں اک سرآمد کے حضور

۴۸

صحبت اکثر رکھوں اس استاد سےشاید اس کی دولت ارشاد سے

۴۹

پہنچے اک رتبے کو میری قیل و قالہو مجھے اس فن میں یک گونہ کمال

۵۰

اٹھ کے آیا مولوی جامی کنےمشق کی یک چند اس نامی کنے

۵۱

جب ہوا کچھ شعر کا رتبہ بلنداور مولانا لگے کرنے پسند

۵۲

پھر گیا اک دن در دستور پرحاجب درگاہ نے کی جا خبر

۵۳

کاے امیر اس روز کا شلاق خوارآج در اوپر ہے پھر خواہان بار

۵۴

کی اشارت سد رہ کوئی نہ ہوقصد ہے برخورد کا تو آنے دو

۵۵

سامنے آیا تو کی نیچی نظردھوپ میں جلتا رہا دو اک پہر

۵۶

بعد ازاں ایماے ابرو کی کہ ہاںصحن ہی میں سے ہوا وہ مدح خواں

۵۷

پھر وہیں سے دے صلہ رخصت کیااک مصاحب نے جگر کر کر کہا

۵۸

اگلی صحبت کی تھی عزت اس قدرسو ہوئی شلاق حد سے بیشتر

۵۹

اب کی اس کو جائزہ دے کر گراںتونے فرمایا مرخص واں سے واں

۶۰

میں نہ سمجھا یہ کہ وہ کیا تھا یہ کیادر جواب اس برگزیدہ نے کہا

۶۱

ایسی ہی ہوتی ہیں تضحیک سلفدست ہو تو ان کے تیں کریے تلف

۶۲

اس قدر اس کا تنبہ تھا ضرورتاکہ پہنچے یہ خبر نزدیک و دور

۶۳

جو سنے سو خودسری سے باز آئےتربیت ہونے کو استادوں کے جائے

۶۴

ورنہ کرتا پوچ گوئی ہر دبنگرفتہ رفتہ شاعری ہوجاتی ننگ

۶۵

تب جو میں شلاق کی یہ خام تھااب جو آیا لائق انعام تھا

۶۶

قصہ کوتہ تھے ممیز درمیاںکاہے کو تھے گلہ گلہ شاعراں

۶۷

اب جو دیکھو ہر طرف ہے ازدحامننگ ہے کرم مزابل پر بھی کام

۶۸

بے تمیزی سے ہے رائج ابتریجس کو دیکھو خودنمائی خودسری

۶۹

نے بیاں کا ہے سلیقہ نے زباںاس پہ ہے ہر ایک سحبان زماں

۷۰

بس قلم وقت زباں بازی نہیںچپ کہ دوران سخن سازی نہیں

۷۱

کون حرف خوب کو کرتا ہے گوشبات کی فہمید کا ہے کس کو ہوش

۷۲

بے تمیزوں سے بھرا ہے سب جہاںاب دماغ حرف ہم کو بھی کہاں

۴۸۷ / ۵۸۲