حسین ابن علی عالی نسب تھا

سکینہ جب کرے ہے باپ کو یادقیامت ایک ہو جاتی ہے بنیاداٹھے ہے ہم اسیروں میں جو فریادتو یہ کرتے ہیں ظلم ایک اور ایجادتقید رہروی کا سخت ہوئےخشن سن سن کے ہر بدبخت ہوئے

About this couplet

This is couplet 19 of 23 in “⁨حسین ابن علی عالی نسب تھا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۹ / ۲۳