کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
حسین ابن علی عالی نسب تھا
حسین ابن علی عالی نسب تھاسزاے عزت و باب ادب تھاجفا و جور کا شائستہ کب تھاسلوک اسلامیوں سے یہ عجب تھاکہ اس مہمان کی عزت نہ کیجےضیافت یک طرف پانی نہ دیجے
کسو کافر سے ایسا ہو نہ کردارہوا اسلامیوں سے جو بہ اصرارکجی رفتار کی تلخی گفتارتس اوپر کھینچ کر ہر اک نے تلواربہت بے ڈول اس پر آزمائیعلی کے منھ سے کچھ بھی شرم آئی
محمدؐ جس کی سب امت کہاویںاسی کی آل لوہو میں ڈباویںعلی سن کر جسے سب سر جھکاویںاسی کے گھر کو بن پانی بہاویںزہے اسلام نادر لوگ خوش دورعجب آئیں عجب ایماں عجب طور
اسے ماریں جسے دیں کی امامتنہ ہووے پھر کسو کو کچھ ندامتکریں برپا ستم سے اک قیامتعلاوہ اس پہ تشنیع و ملامتحیا مطلق نہ غارت سے کسو کونہ بہرہ کچھ مروت سے کسو کو
اسے بیکس جو پایا مار ڈالارکھا میداں میں سر کو نیزہ بالاپسر کو کانپتا گھر سے نکالابٹھائیں عورتیں رستے پہ لا لانہ کچھ کی دل دہی زین العبا کینہ کچھ روے محمدؐ سے حیا کی
علی کے تیں موا جانا سبھوں نےمحمدؐ کو نہ کچھ مانا سبھوں نےبرا شبیر کا ٹھانا سبھوں نےکیا اس گھر کو ویرانہ سبھوں نےرہا تنکا سا عابد کشمکش میںحرم کے لوگ بے حالی سے غش میں
علی اکبر کہ تھا شکل محمدؐطرف اس ایک سے ہوتے تھے صد صداٹھائے ان نے جس دم زخم بے حدلگا منھ کر نجف کو کہنے کاے جدستم ہے شور ہے جور و جفا ہےسمجھ میں کچھ نہیں آتا یہ کیا ہے
پڑی تھی دھوپ میں وہ لاش مظلومکسو کا دل تنک ہوتا نہ تھا موماسیری اور غارت کی مچی دھومتردد شہ کے لے جانے کا معلومرہا تھا عابدیں سو زار و بیمارنہ جس کی کچھ دوا نے جس کا تیمار
زناں مویہ کناں سب خاک بر سرکہیں تھیں رو مدینے کی طرف کرکہ منصف ہو ٹک اے ختم پیمبرؐمصیبت کس قدر ہے آل اوپرکہیں کس سے کوئی حاکم نہیں ہےنہ تو ہے نے امیرالمومنیں ہے
ریاست کے لیے شبیر مارابھلا یوں اس کی تھی تقدیر ماراسبھوں کو کیوں ہے بے تقصیر ماراعلی اصغر کے پھر کیوں تیر ماراچھنائیں عورتوں کی کیوں ردائیںروا کاہے کو رکھیں یہ جفائیں
چلا سر کٹ کے اس جان جہاں کاگرا ہے خاک پر خوں ہر جواں کاہوا ستھراؤ یوں خرد و کلاں کامقرر لوٹنا ہے خانماں کاکسو ملت میں ایسا بھی ہوا ہےنیا وارث ہمارا ہی موا ہے
سکینہ کا گنہ کیا ہے بتاویںپدر مردہ کو کس خاطر کڑھاویںکہاں فریاد لے کر آہ جاویںکسے یہ ماجرا سارا سناویںجفا ہر لحظہ ہم سب پر نئی ہےحیا اک رسم تھی سو اٹھ گئی ہے
حسن تو تھا خلیفہ جس کو ماراگنہ قاسم کا کیا جو اس کو ماراکہوں میں کب تلک کس کس کو ماراستم سے جور سے جس تس کو مارارہا وارث نہ غیر از عابدیں کےپڑے ہیں خاک میں ارکان دیں کے
سو ٹپکے ہے لہو اس کے سخن سےبندھے ہیں ہاتھ دونوں اک رسن سےہوا ہے آپ اسیر آکر وطن سےپدر محروم ہے اب تک کفن سےکہاں مہلت کہ شہ کے تیں اٹھاویںنہیں فرصت کہ ٹک رو کر بھی جاویں
جلے خیمے لٹا گھر بار ساراہوا کنبہ سبھی بندی ہماراجوان و پیر سب کو تشنہ مارااگرچہ یہ تھا دریا کا کنارہپہ قطرہ آب کا در و گہر تھاکہ لب خشکی سے ہر اک چشم تر تھا
کرے عابد کہاں تک غم گساریجسے بیماری و تن کی نزاریکھنچی ہے دور تک اپنی یہ خواریاٹھانا پاؤں کا اس پر ہے بھاریہو ایسے حال میں کیونکر دلاساکرے کس کس کی دلداری وہ پاس آ
کہے زینب تھی زہرا سے کہ مادرکرے گا کون اب ہم سوں کا آدرپڑا ہے خاک میں بے سر برادرلیے جاتے ہیں چھینے سر کی چادرکہاں لے جاؤں بھائی کو اٹھا کراڑاؤں خاک کس کے آگے جا کر
ہمیں بازار میں لاکر بٹھایاکیا پامال ایسا سر اٹھایاتسلی کو بھی کوئی ٹک نہ آیاکفن جی سے گیوں نے بھی نہ پایاستم پر ہے ستم یہ جور پر جورزمانہ ہوگیا پل مارتے اور
سکینہ جب کرے ہے باپ کو یادقیامت ایک ہو جاتی ہے بنیاداٹھے ہے ہم اسیروں میں جو فریادتو یہ کرتے ہیں ظلم ایک اور ایجادتقید رہروی کا سخت ہوئےخشن سن سن کے ہر بدبخت ہوئے
نہیں آتا میسر لاش اٹھاناکہ ہے درپیش یاں سے جلد جاناکرے ہے عابدیں گر کچھ بہانہاٹھاتے ہیں گے اس پر تازیانہکہاں مقدور یہ اس ناتواں کاکہ ہووے پیشرو اس کارواں کا
نظر میں باپ کا سر ہے سناں پرپڑے ہے آنکھ لوٹے کارواں پربنی ہے آن کر ہر گام جاں پرمصائب ہیں غرض اس ناتواں پرابھی میداں میں دس جاگہ گھرا ہےچلا جاتا نہیں پر رہگرا ہے
جو رکتا ہے بہت تو رو اٹھے ہےجو گرتا ہے تو طاقت کھو اٹھے ہےکہے ہے یوں تو شور اک ہو اٹھے ہےکہ دیکھوں باپ کب تک سو اٹھے ہےسر رہ قافلہ ہے کوئی بولوکہ دو رخصت اسے ٹک آنکھ کھولو
ہوئے سب شام کو آخر روانہکہ جن کو ٹھور تھی نے کچھ ٹھکانابہت بیدردیوں پر تھا زمانہکچھ آگے شرح و بسط اچھا نہ جاناقلم کو میرؔ میں نے توڑ ڈالاسر اپنا پتھروں سے پھوڑ ڈالا
۴۹۳ / ۵۸۲