حسین ابن علی عالی نسب تھا

جو رکتا ہے بہت تو رو اٹھے ہےجو گرتا ہے تو طاقت کھو اٹھے ہےکہے ہے یوں تو شور اک ہو اٹھے ہےکہ دیکھوں باپ کب تک سو اٹھے ہےسر رہ قافلہ ہے کوئی بولوکہ دو رخصت اسے ٹک آنکھ کھولو

About this couplet

This is couplet 22 of 23 in “⁨حسین ابن علی عالی نسب تھا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۲۲ / ۲۳