حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارا
انواع ستم ہیں گے بے تاب و تواں اوپراقسام جفا ہیں گے دل خستہ جواں اوپرکچھ طعن نہیں تنہا ہر اک کی زباں اوپرسر باپ کا بھی آگے جاتا تھا سناں اوپراس سخت مصیبت پر کس دل کو شکیب آوےپتھر کا جگر ہو تو یاں آب ہو بہہ جاوے
About this couplet
This is couplet 12 of 17 in “حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۲ / ۱۷