کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارا

۱

حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارانکلا تھا مدینے سے ناموس لیے سارااس چرخ سیہ رو نے اک فتنے کو سنکارااس ظلم رسیدہ کو کن سختیوں سے ماراکرتا تھا وہ آنکھوں سے خون جگر افشانیدریا کے کنارے پر پایا نہ تنک پانی

۲

اس قوم کو تھی اس سے اک دشمنی جانیاس مرتبہ بے برگی اس درجہ نواخوانیوہ یوسف ثانی تھا جیسے کہ ہو زندانیمہمان عزیز ایسا تس کی ہو یہ مہمانیکھانے کو جراحت تھے پینے کے تئیں خوں تھاسب ساتھ کے لوگوں کا احوال دگرگوں تھا

۳

سب چل بسے ہمراہی اس وادی ویراں میںکوئی نہ رہا اس کے انصار میں اعواں میںنونیزہ چڑھا پانی اس ظلم نمایاں میںپر پانی نہ دیکھا تھا جز دیدۂ گریاں میںآخر کو سفر اپنا ناچار ہو ٹھہرایاکیا کیا نہ خیال اس کو پھر جاتے ہوئے آیا

۴

ناموس کے بے جاگہ اس آن اترنے کاہمراہیوں کے جی سے ناچار گذرنے کاگھر بار کے جلنے کا فرزندوں کے مرنے کاانصاف ستم ہرگز یاروں کے نہ کرنے کاسو دادگری کی واں سب رسم اٹھا دی تھیآزار رسانی کی تاکید و منادی تھی

۵

اس ہمسر بے وارث اندوہ کی ماری کااس دختر بے مشفق نادان بچاری کااس جمع پریشاں کی اوقات گذاری کااس خانہ خرابی کا بیٹے کی نزاری کامرنے کو نہ تھا جی پر ناچار موا آخرسر جس لیے دھنتا تھا پھر سو ہی ہوا آخر

۶

خیموں کو جلاتے تھے آشوب اٹھاتے تھےشمشیریں علم کرتے بے وسوسہ آتے تھےلے جاتے تھے واں سے جو تنکے کو بھی پاتے تھےجاروب کر اس گھر کو سب خاک اڑاتے تھےاحمدؐ کا نہ پاس ان کو حیدر کا نہ اندیشہتھا جور و ستم شیوہ بیدادگری پیشہ

۷

جب وہ شہ بے لشکر میداں میں گیا ماراگھربار جلا یکسر ناموس لٹا ساراسر آپڑی عابد کے سو بیکس و بیچارہبے طاقت و بے ہمدم بے یاور و بے یاراحیران سلوک ان کا کرتا تھا نظر سب پرسو آنسو پلک پر تھے سو نالۂ دل لب پر

۸

تھے خیمہ نشیں جتنے بے پردہ سو ہو بیٹھےپھر سر کی ردائیں بھی اس دشت میں کھو بیٹھےبرباد گئی عزت ناموس کو رو بیٹھےاس درد کو وہ پہنچے اس طرح سے جو بیٹھےوارث کے موئے کوئی کرتا نہیں بیدادیاس ظلم کے ہوں جاکر کس کے کنے فریادی

۹

اس راہ کے چلنے کی کیا اچھی علامت تھیآنے کی مدینے سے ہر اک کو ندامت تھیہر حرف تھا اک طعنہ ہر بات ملامت تھیفریاد سکینہ سے ہر گام قیامت تھیجب رونے وہ لگتی تھی کلثوم موئی جاتیزینب گلے سے لگ کر کچھ غش ہی ہوئی جاتی

۱۰

کوئی نہ رہا جس کو ہو کچھ غم دلداریغیروں سے دل آزاری اپنوں سے یہ کچھ خواریعابد کی وہ بیماری وہ بیکسی بے یاریہو شہ کے اٹھانے کی کس طرح سے تیاریاسباب نہیں مطلق وارث نہیں ہے کوئییاں بات نہیں سنتے یک سو رہی دلجوئی

۱۱

فرصت نہیں ہے اتنی جو دم بھی لیا جاوےتاکید میں چلنے کی کیا فکر کیا جاوےکیونکرکے نہ عابد پھر پانی سا ہوا جاوےپیاسا ہو قبیلہ سب یوں جس کا لٹا جاوےکیا کیا نہ پدر مردہ بے طاقتی کرتا ہےہر آن میں گرتا ہے ہر گام پہ مرتا ہے

۱۲

انواع ستم ہیں گے بے تاب و تواں اوپراقسام جفا ہیں گے دل خستہ جواں اوپرکچھ طعن نہیں تنہا ہر اک کی زباں اوپرسر باپ کا بھی آگے جاتا تھا سناں اوپراس سخت مصیبت پر کس دل کو شکیب آوےپتھر کا جگر ہو تو یاں آب ہو بہہ جاوے

۱۳

قسمت میں تھا قاسم کے افسوس جواں مرنادولھن کے تئیں اس کے سب عمر تھا دکھ بھرنااکبر کے نہ طالع تھے جو گور میں ہو دھرناکانوں نہ سنا ہرگز اصغر کا سخن کرناارمان جو دل میں تھے دل ہی میں رہے سارےکیا وقت برا آیا بے وقت گئے مارے

۱۴

ناگہ نظر زینب میداں کی طرف آئیاک لاش میں بھائی کے پیکر کی طرح پائیبے تاب ہوئی ازبس آخر گری چلائیرو رو کے لگی کہنے کچھ وجہ بھی اے بھائیمنھ ٹک جو ترا ایدھر ہوتا نہیں ہے ہرگزمردے پہ ترے کوئی روتا نہیں ہے ہرگز

۱۵

کیا تجھ پہ ہوا ثابت جو لوٹ لیا سب گھرکیا تونے کیا جس سے دشمن ہے یہ سب لشکرکیا جرم ہوا سرزد جو سر نہیں ہے تن پرجو پردگی ہے کیوں ہے بے پردہ و بے چادرکچھ بول سبب کیا تھا کیوں تیرے تئیں ماراناموس بیاباں میں کاہے کو ہے آوارہ

۱۶

وہ خانۂ دولت ہے اب غیرت ویرانہبرباد گیا سارا اسباب امیرانہہیں پردہ نشیں اکثر رستے میں فقیرانہچلنا ہمیں آیا ہے درپیش اسیرانہمردے کو ترے ہم جو چھوڑے ہوئے جاتے ہیںافراط خجالت سے ہر دم موئے جاتے ہیں

۱۷

اس پیکر مردہ سے کر دل کے تئیں خالیناچار گئی آگے بے وارث و بے والیپھر حد سے ہوئی افزوں بیچارگی بدحالیتونے بھی قلم اپنے یاں ہاتھ سے گر ڈالیتو میرؔ کیا اچھا لکھنے کا نہ تھا شایاںننوشتہ ہی بہتر ہے ایسا غم بے پایاں

۴۹۴ / ۵۸۲