حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارا

اس پیکر مردہ سے کر دل کے تئیں خالیناچار گئی آگے بے وارث و بے والیپھر حد سے ہوئی افزوں بیچارگی بدحالیتونے بھی قلم اپنے یاں ہاتھ سے گر ڈالیتو میرؔ کیا اچھا لکھنے کا نہ تھا شایاںننوشتہ ہی بہتر ہے ایسا غم بے پایاں

About this couplet

This is couplet 17 of 17 in “⁨حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۷ / ۱۷