حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارا
تھے خیمہ نشیں جتنے بے پردہ سو ہو بیٹھےپھر سر کی ردائیں بھی اس دشت میں کھو بیٹھےبرباد گئی عزت ناموس کو رو بیٹھےاس درد کو وہ پہنچے اس طرح سے جو بیٹھےوارث کے موئے کوئی کرتا نہیں بیدادیاس ظلم کے ہوں جاکر کس کے کنے فریادی
About this couplet
This is couplet 8 of 17 in “حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۸ / ۱۷