کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

در مدح حضرت علی مرتضےٰ ؓ

۱

جب سے خورشید ہوا ہے چمن افروز حملرنگ گل جھمکے ہے ہر پات ہرے کے اوجھل

۲

وقت وہ ہے کہ زبس شوق سے چشم بلبلخوبی دلکش گل دیکھنے کو ہو احول

۳

جوش گل یہ ہے جہاں تک کرے ہے کام نظرلالہ و نرگس و گل سے ہیں بھرے دشت و جبل

۴

لطف روئیدگی مت پوچھ کہ میں شبہے میں ہوںسبزہ غلطاں ہے لب جو پہ کہ خواب مخمل

۵

چشم رکھتا ہے تو چل فیض ہوا کو ٹک دیکھنرگس اگتی ہے جہاں بوئی تھی دہقاں نے بصل

۶

سیر کر تازگی و خرمی و شادابیخشک بھی شاخ نے اب سبز نکالی کوپل

۷

خون خمیازہ کش عاشقی و پنجۂ گلدونوں نکلے ہیں تہ خاک سے اب دست و بغل

۸

برگ گل فیض ہوا کرتا ہے ہر اخگر کوآگ کی گر کہیں سلگا کے رکھے ہیں منقل

۹

بیت بحثی کے تئیں مرغ چمن آئے ہزارکسو گلبن کے تلے آپ بھی اب پڑھیے غزل

غزل (مطلع ثانی)

۱۰

نکلے ہے لالہ زبس چاک کر اب سینۂ تلآتش گل سے جلا کرتا ہے سارا جنگل

۱۱

تیرگی اپنے ستارے کی ہے سب پر روشنآفتاب آوے ہے یاں دن کو جلاکر مشعل

۱۲

آمد گریہ قیامت ہے اگن میں جی کیمارے ڈالے ہے یہ برسات ہماری کی کہل

۱۳

غنچۂ خام کو جوں پھونک سے کھولے ہے طفلیوں بھی کر دیکھا پہ دل عقدہ ہے مالاینحل

۱۴

تو یونہی کھینچے ہے یہ نقش برآب اے منعمکیسی محبوب گئیں صورتیں اس خاک میں رل

۱۵

جنس دل مفت ہے سینے میں عجب کیا ہے جولےغمزے وے دزد ہیں آنکھوں سے چرا لیں کاجل

۱۶

شیخ کے قد کی درازی کے تئیں حال میں دیکھیاد آتا ہے جوانوں کے تئیں رقص جمل

۱۷

کودنے کو جو اٹھا سر پہ اٹھالی مجلسدیکھیے بیٹھے جو پھر اونٹ تو بیٹھے کس کل

۱۸

پردے میں دوستی کے میرؔ کا جی تک تو لیامدعی کتنے تھے اس کے یہ محبت بیتل

۱۹

کیا ہیں اندھیر فلک کے کہ نہیں ملتی دادروز خورشید نکلتا ہے جلاکر مشعل

۲۰

جو ہے سو دست بہ دل خاک بسر ہے اس سےمیں بھی نکلوں ہوں سدا منھ پہ کف خاک کو مل

۲۱

موے سر تک تو عدو دیدۂ شور اس کا ہےآج دیکھے کسو سر پر تو اسے چاہے کل

۲۲

پنجۂ خور کو زراندود کیا ان نے جسےمرتعش باندھے ہیں اکثر شعرا بعضے شل

۲۳

سرخ رہتی ہے مژہ خط شعاعی سی ہنوزچشم خورشید سے کھوئی نہ کبھو ان نے سبل

۲۴

درد سر میں ہے جو موجود ہے دور اس کے میںصبح نکلے ہے سدا ماتھے کو مل کر صندل

۲۵

وقت ہے اپنے نصیری کی مدد کا یا شاہروز و شب رہتی ہے اس موذی ہی سے جنگ و جدل

مطلع ثالث

۲۶

اے کہ اک تو ہی ہوا عالم اسرار ازلاے کہ سو جان سے عاشق ہے ترا حسن عمل

۲۷

تیری وہ ذات مقدس ہے کہ لیتے ہوئے ناممنھ سے ناخواستہ بھی صل علیٰ جائے نکل

۲۸

تیری درگاہ میں جبریل کے پر کیوں نہ جلیںیہیں ہے نور جلالی خدا عزوجل

۲۹

دور ازبس کہ کھنچا عرش سے رتبہ تیراحرف تیرا ہے ترے شیعوں کو وحی منزل

۳۰

مرحبا شاہی تری صل علیٰ جاہ تراکہ ہوا تخت ترا دوش نبی مرسلؐ

۳۱

فرش ہونا ترے زائر کا سعادت تھی ولےکیا کرے چادر مہتاب کہ تھی مستعمل

۳۲

وہ نخستیں خرد اے عالم اسرار الٰہمانتے جس کو گئے دہر کے کامل اکمل

۳۳

آخر اب آکے ترے درس میں نکتہ یہ کھلاناقص محض چلا جائے تھا عقل اول

۳۴

جی میں گذرے بھی تو نکلے ہے ترے درس کے بیچمعنی تازہ سے بدلا ہوا لفظ مہمل

۳۵

رفع بدعت پہ جب آوے تری طبع اقدسکیا عجب شعلۂ آواز سے جل جا نرسل

۳۶

لقمۂ ظلم نہیں پچتا عدالت میں تریباز نگلی ہوئی چڑیا کے تئیں دے ہے اگل

۳۷

حالت نزع میں گر نام زباں پر ہو ترایک رمق جان حیات ابدی سے ہو بدل

۳۸

بس کہ غالب ہے ترا سعد ستارہ ہے عجبپہنچے گر حشر تلک نوبت شاہی زحل

۳۹

کیا ترے کشف بیاں کرنے کی کہیے تاثیرطبع گوئندہ پہ یاں حال ہوا مستقبل

۴۰

تو غضب ہوئے مبادا کسو اوپر کہ شہامرگ ٹلتی بھی ہے پر ٹلتی نہیں یہ کلول

۴۱

تب ہوا دین محمدؐ کا بہ زور شمشیرتونے برہم کیے جب کتنے ہی ادیان و ملل

۴۲

حبذا حق سے یہ نسبت کہ رہی بھی موقوفتجھی پر مصلحت کار خداوند اجل

۴۳

سن کے یہ نظم و نسق دہر میں جو تونے کیاجمع ہوجاتے ہیں شاعر کے حواس مختل

۴۴

کوئی یوں سرکشی سے اپنی کہے کچھ لیکنسجدہ ہی کیجے تجھے یہ ہے ترا قدر و محل

۴۵

جی میں ہے اور بھی مطلع کے تئیں کریے نموددل کو تسکین نہیں بخشتا وصف مجمل

مطلع رابع

۴۶

اے کہ طاقت ہے زمانے میں تری ضرب مثلپنجۂ زور کے آگے ترے یہ چرخ نبل

۴۷

یک طرف میں نے کیا فرض ترے بندے کودوسری سمت کیا جمع عدو کا دنگل

۴۸

کشتنی مدعی کی اور کی میں کیسے کہوںہر جواں برج سا پھر کوہ کے مانند اچل

۴۹

میان سے جب کہ گھسیٹی ادھر ان نے تلوارباعث تیرگی چشم تھی وہ برق اچپل

۵۰

درہمی آگئی یک بار صف اعدا میںایک دو ہاتھ کے چلنے میں پڑی یہ ہلچل

۵۱

تیرگی بخش جہاں بس کہ ہوا سرمۂ گردچشم خورشید فلک پر تھی مثال مکحل

۵۲

رستم و سام جسے فرض کرے تو دل میںنعرہ کر سامنے آواز کیا جب اٹکل

۵۳

کھل گیا دوش سے لے تاکمر اللہ اللہایک ہی زخم ہے دشمن کے گلے کی ہیکل

۵۴

برہمی کارگہ رزم کی مت پوچھ کہ تھاکوہ پر کوہ فلک پر تھی زمیں دل پر دل

۵۵

جمع ہو آیا تھا اس ایک پر اک جم غفیراکثر اس میں سے گئے مارے کچھ اک بھاگے دہل

۵۶

کرکے سرگوشی جسے پوچھتے ہیں بھاگے ہوئےآتی ہے غیب سے آواز ہوا وہ فیصل

۵۷

یہ ہے یا خالی ہے میدان مگر اس کی تیغاژدہا تھی کہ گئی خلق کو یک دم میں نگل

۵۸

کیا بیاں کیجیے اب لشکر اعدا کی معاشمخرج خوں ہے دہاں زخم کا ہے گا مدخل

۵۹

چھوٹے ہے زخم سے ہر ایک کے فوارۂ خوںہر طرف دشت میں جاری ہے لہو کی جدول

۶۰

سرخ تر چشم شجاعاں میں نظر آتی ہےخون سے مسلخ قصاب کی خاک مقتل

۶۱

کیا لکھوں اسپ سبک سیر کی اس کے تعریفادہم خامہ بھی لکھتے ہوئے جاتا ہے اچھل

۶۲

جب عناں اس کی اچک لیتا ہے اس کا راکبجلدی پویہ میں دکھلاوے ہے کیا کیا چھل بل

۶۳

اس فلک سیر کا میدان مقرر ہے گاتگ و پو کے لیے اثناے ابد اور ازل

۶۴

آگیا اس میں نظر جانا کسو شخص کو تومارتے پل کے گیا اس کو چھلاوا سا چھل

۶۵

قابو پانے کے لیے اس کے سوار اس پہ سداکہتے ہیں مدعی اس اسپ کے تیں ماریے چل

۶۶

راکب اس کا کرے ہے سن کے تبسم یہ باتیعنی ان گیدیوں کے کچھ ہے دماغوں میں خلل

۶۷

جان یہ ہے ترے گھوڑے میں کہ تا روز جزاگرد کو اس کے نہ پہنچے گی کبھو اس کی اجل

۶۸

اک مصور نے اسے دیکھ کے دوڑایا خیالدیکھوں اس باد کی مجھ سے بھی سکے شکل نکل

۶۹

سر و سینہ کو کمر تک تو بنایا رکھ ہاتھاڑ گیا صفحۂ کاغذ پہ سے چھوتے ہی کفل

۷۰

آبلے جیسے ستارے ہیں مرے دل کے بیچبس کہ اس چرخ سیہ رو سے رہا ہوں میں جل

۷۱

آج تجھ نیر اعظم کی خلافت کا ہے روزداد دے میری کہ دیکھوں میں اسے مستاصل

۷۲

صاف ہو زنگ دل میرؔ کہ احباب میں ہےواسطے تیرے مخالف کے ہیں تیغیں صیقل

۵۱۴ / ۵۸۲