کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

در مدح حضرت علی مرتضےٰ ؓ

۱

غنچے ہو دل پر آتے ہیں اندوہ اب مدامپہنچے ہے مجھ کو داغ گل جنگ صبح و شام

۲

اے کج روش تو نامہ نہ لکھ بھیج مت پیامقاصد کا میرے سیدھی طرح سے تو لے سلام

۳

دل میں نہیں ہے قطرۂ خوں آنکھیں ہیں گی ترخالی پڑا ہے شیشۂ مے بھر رہے ہیں جام

۴

ناکامیوں سے کام رکھا میں تمام عمرگو کام دل حصول نہ ہو مجھ کو کیا ہے کام

۵

اے رشک ماہ عید نہ کر انتظارکشمکھڑا دکھادے چاند سا ٹک آکے پشت بام

۶

زنجیر پا ہے اس کی تری زلف غالباًمدت ہوئی نسیم نہیں کرتی ابتسام

۷

چلتا ہے تو تو جاتے ہیں کتنوں کے جی چلےآ اب کسو کی مان لے موقوف کر خرام

۸

آوارگی سے دل ہی کی آسودگی کو چھوڑناموس عافیت کو اڑا کیسا ننگ و نام

۹

گر جانتا مژہ کو تری تیغ کیں تو میںدو چار جانیں اور بھی کر لاتا قرض و وام

۱۰

رونے کا تار باندھ تفرج نہیں ہے خوبہے آنسوؤں کا سلک گہر کا سا انتظام

۱۱

اک دم تری گلی میں گیا تھا میں سیر کولبریز بوے خوں سے ہے اب تک مرا مشام

۱۲

صیاد نے اسیر کیا مجھ کو پر عبثمیں ٹک جیا نہ فرط تپیدن سے زیر دام

۱۳

آنکھوں سے اس کی چشم وفا میرؔ ہے غلطوحشی ہیں یہ غزال نہ ہوں گے کسی سے رام

۱۴

چشم طمع کو سی لے ہما تو کہ جیتے جیسرمہ ہوئے ہیں پس کے الم سے مرے عظام

۱۵

اے طبع اتنی ہرزہ درائی جرس کی طرزاس گفتگو کا فائدہ کہہ حاصل کلام

۱۶

یعنی امیر شاہ نجف کی صفت پر آوہ شاہ جس پہ سارے کمالات ہیں تمام

۱۷

وہ شاہ ہے کہ بعد نبیؐ کے وہی ہے پھروہ شاہ ہے کہ حق ہے وہی اولیں امام

۱۸

گر چاہے دل گرفتہ جہاں میں نہ ہو کوئیکر دے یہ تنگ غنچۂ پیکاں کو ابتسام

۱۹

ورنہ شگفتگی یہ بلاے عظیم ہےچھوڑے نہ زخم سینۂ عاشق تک التیام

مطلع ثانی

۲۰

شاہا ترے گدا کا ہے مشہور احتشامشاہان سرفراز ہیں سب اس کے پائے نام

۲۱

ہو اسپ پر سوار کرے عزم جنگ اگرمیدان کارزار میں ادنیٰ ترا غلام

۲۲

جو لاں کرے جدھر کو رہے اس طرف نہ خاکاڑ جائے خاک ادھر کی جدھر کو پھرے لگام

۲۳

پامال اس قدر ہوں کہ معلوم بھی نہ ہوںافراسیاب کون ہے رستم ہے یاں کدام

۲۴

شمشیر اس کی خرمن اعدا کی ہے جو برقآوے جو اس کے ہاتھ میں یک لحظہ بے نیام

۲۵

ہل جائے اور ٹک صف اعدا کی اور کوبے سر ہیں پھر تو مدنظر تک بدن تمام

۲۶

یہ بات میں کہوں ہوں نظر کرکے مایؤلگر آسماں پہ جائے تہ خاک ہے مدام

۲۷

شاہا ترے غلام کے حملے کی کس کو تابگو پہلواں ہزاروں لیے آئے اس پہ سام

۲۸

وہ سام بن نریماں کہ اب تک جہاں کے بیچافسانے اس کے زور کے کرتے ہیں دھوم دھام

۲۹

ایک ایک کو زمین میں دے گاڑ اس سمیتتحت الثریٰ کو جائے مع اپنے ازدحام

۳۰

طبقہ زمیں کا جائے اکھڑ اس کے زور سےچنداں عجب نہیں کہ ہوا ہووے تیرہ فام

۳۱

از بس اڑے ہے خاک جدھر دیکھوں تس طرفجاتے ہیں کورچشم تماشائی ہو عوام

۳۲

مطلع کروں ہوں اور بھی موزوں میں اس جگہتا ہو بہ خیر و خوبی قصیدے کا اختتام

مطلع ثالث

۳۳

اے بعد فوت ختم رسلؐ صاحب اہتماموے اولیں امام و سزاوار احترام

۳۴

از بس کہ تیرے نقش سے گم ہیں محرماترسام کھینچے خفت اگر چاہے ارتسام

۳۵

عصفور کس شمار میں پر تیرے عدل سےگنتی نہیں ہے باز شکاری کی اعتصام

۳۶

تو ہے کہ تجھ کو ذات خدا سے ہے ربط خاصتو ہے کہ ساری خلق پہ تیرا ہے فیض عام

۳۷

تو ہے کہ تیرے مہر کے سائے میں روز حشرمحفوظ آفتاب قیامت سے ہوں انام

۳۸

ہیں سہل تیرے خشم کے آگے خرابیاںمشکل یہ ہے کہ ہووے فلک کا نہ انہدام

۳۹

چاہے تو اعتدال زمانہ ٹک ایک اگرایک ہی ہوا ہے پھر تو جہاں میں علی الدوام

۴۰

چاہے اگر تو یہ کہ نہ روپوش ہووے روزتہ کرکے شب اٹھا ہی رکھے پردۂ ظلام

۴۱

گرمی کرے تنک بھی اعانت تری تو پھرآجائے پختگی پہ مرا یہ خیال خام

۴۲

یعنی کہ دیکھوں حضرت دہلی کی جا نواحمعلوم ہے سواے ترے حاصل کلام

۴۳

ہرگز نہ ہو حلال عدو پر ترے خوشیہووے تمام تیرے محبوں پہ غم حرام

۵۱۳ / ۵۸۲